فھو حسبہ (الطلاق: ۴)
اور فرمایا
من یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب(الطلاق:۳،۴)
اور فرمایا۔
وھو یتولی الصا لحین (الاعراف: ۱۹۷)
قرآن شریف اس قسم کی آیتون سے بھرا پڑا ہے کہ وہ متقیون کا متوّلی اور متکفل ہوتا ہے توپھر جب انسان اسباب پر تکیہ ا ور توکل کرتا ہیتو گویا خدا تعالیٰ کی ان صفات کا انکار کرنے ہے اور ان اسباب کو حصہ دینا ہے اور ایک اور خدا اپنے لیے ان اسباب کاتجویز کرتا ہے؛ چونکہ وہ ایک پہلوکی طرف جھکتا ہے ۔اس سے شرک کی طرف گویا قدم اُٹھاتا ہے ۔ جو لوگ حکّام کی طرف جھکے ہوتے ہیں اور اُن سے انعام یا خطاب پاتے ہیں۔ اُن کے دل میں اُن کی عظمت خدا کی سی عظمت داخل ہو جاتی ہے۔ وہ اُن کے پرستار بن جاتے ہیں اور یہی ایک امر ہے جو توحید کا استیصال کرتا ہے اور انسان کو اُس کے اصل مقصد سے اُٹھا کر دُور پھینک دیتا ہے۔پس انبیاء علیہم السّلام یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اسباب اور توحید میںتناقض نہ ہونے پاوے، بلکہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر رہے اور مآل کار توحید پر جا ٹھہرے۔ وُہ انسان کو یہ سکھانا چاہتے ہیں۔ کہ ساری عزّتیں، سارے آرام اور حاجات براری کا متکفّل خدا ہی ہے۔ پس اگر اس کے مقابل میں کسی اور کو بھی قائم کیا جاوے تو صاف ظاہر ہے کہ دو ضدّوں کے تقابل سے ایک ہلاک ہو جاتی ہے۔ اس لیے مقدم ہیکہ خدا تعالیٰ کی توحید ہو۔ رعایت اسباب کی جاوے۔ اسباب کو خدا نہ بنایا جاوے۔ اسی توحید سے ایک محبت خدا تعالیٰ سے پیدا ہوتی ہے جب کے انسان یہ سمجھتا ہے کہ نفع و نقصان اسی کے ہاتھ میں ہے۔ محسن حقیقی وہی ہے۔ ذرّہ ذرّہ اُسی سے ہے۔کوئی دوسرا درمیان نہیں آتا۔ جب انسان اس پاک حالت کوحاصل کرے تو وُہ مُوحد کہلاتا ہے۔غرض ایک حالت توحید کی یہ ہے کہ انسان پتھرون یا انسانوں یا اور کسی چیز کو خدا نا بنائے، بلکہ ان کو خدا بنانے سے بیزاری اور نفرت ظاہرکرے اور دوسری حالت یہ ہے کہ رعایت اسباب سے نہ گذرے۔
تیسری قسم یہ ہے کہ اپنے نفس اور وجُود کے اغراض کو بھی درمیان سے اُٹھادیا جاوے اور اس کی نفی کی جاوے۔ بسا اوقات انسان کے زیرِنظر اپنی خوبی اور طاقت بھی ہوتی ہے کہ فلاں نیکی مَیںنے اپنی طاقت سے کی ہے ۔ انسان اپنی طاقت پر ایسا بھروسہ کرتا ہے کہ ہر کام کو اپنی، ہی قوّت سے منسُوب کرتا ہے۔ انسان موحِدّ تن ہوتا ہے کہ جب اپنی طاقتوں کی بھی نفی کردے۔
لیکن اب اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان جیسا کہ تجربہ دلالت کرتا ہے۔ عموماً کوئی نہ کوئی حصّہ گنہ کا اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ بعض موٹے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور بعض اوسط درجا کے گناہوں میں اور بعض باریک در باریک قسم کے گناہوں کا شکار ہوتے ہیں۔ جیسے بخل، ریاکاری یا اور اسی قسم کے گناہ کے