یا خیالی دیویوںاور کیو تائوں کو خدا بنا لیا گیا ہے؛اگر چہ یہ شِرک ابھی تک دُنیا میں موجود ہے، لیکن یہ زمانہ روشنی اور تعلیم کا کچھ ایسا زمانہ ہے کہ عقلیں اس قسم کے شرک کو نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگ گئی ہیں۔ یہ جُدا امر ہے کہ وہ قومی مذہب کی حیثیت سے بظاہر ان بے ہودگیوں کا اقرار کریں، لیکن دراصل بالطبع لوگ ان سے متنفّر ہوتے جاتے ہیں، مگر ایک اور قسم کا شرک ہے جو مخفی طور پر زہر کی طرح اثر کر رہا ہے اور وہ اس زمانہ میں بہت بڑھتا جاتا ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ اور اعتماد بالکل نہیں رہا۔
ہم یہ ہرگز نہیں کہتے اور نہ ہمارا یہ مذہب ہے کہ اسباب کی رعایت بالکل نہ کی جاوے کیونکہ خدا تعالیٰ نے رعایتِ اسباب کی ترغیب دی ہے اور اس حدتک جہاں تک یہ رعایت ضروری ہے۔ اگر رعایتِ اسباب نہ کی جاوے تو انسانی قوتون کی بیحُرمتی کرنا اور خدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشّان فعل کی توہین کرنا ہے، کیونکہ ایسی حالت میں جبکہ بالکل رعایتِ اسباب کی نہ کی جاوے، ضروری ہوگاکہ تمام قوتوں کو جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہیں بالکل بے کار چھوڑ دیا جاوے اور ان سے کام نہ لیا جاوے۔ اور اُن سے کام نہ لینا اور ان کو بے کار چھوڑ دینا خدا تعالیٰ کے فعِل کو لغو اورعبث قرار دینا ہے۔جو بہت بڑا گناہ ہے۔ پس ہمارا یہ منشاء اور مذہب ہرگز نہیں کہ اسباب کی رعایت بالکل ہی نہ کی جاوے،بلکہ رعایتِ اسباب اپنی حدتک ضروری ہے۔آخرت کے لیے بھی اسباب ہی ہیں۔ خدا تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری اور بدیوں سے بچنا اور دوسری نیکیون کو اختیار کرنا اس لیے ہے کہ اس عالَم میں سکھ ملے، توگویا یہ نیکیاں اسباب کے قائم مقام ہیں۔
اسی طرح پر یہ بھی خدا تعالیٰ نے منع نہیں کیا کہ دنیوی ضرورتوںکے پورا کرنے کے لیے اسباب کو اختیار کیا جاوے۔ نوکری والا نوکری کرے۔ زمیینداری کے کاموں میں رہے۔ مزدور مزدوریاں کریں تا وُہ اپنے عیال واطفال اور دُوسرے متعلّقین اوراپنے نفس کے حقوق کو ادا کر سکیں۔ پس ایک جائز حد تک یہ سب دُرست ہے اور اس کو منع نہیں کیا جاتا، لیکن جب انسان حد سے تجاوز کرکے اسباب ہی پر پُورا بھروسہ کرے اور سارا دارومداراسباب ہی پر جا ٹھہرے تو یہ وہ شرک ہے جو انسان کو اُس کے اصل مقصد سے دُور پھینک دیتا ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر فلاں سبب نہ ہو تا، تو مَیںبھوکا مر جاتا ہے۔ یا اگر یہ جائد اد یافلاں کام نہ ہوتا، تو میرا بُرا حال ہو جاتا۔ فلان دوست نہ ہوتا تو تکلیف ہوتی۔ یہ امُور اس قسم کے ہیں کہ خدا تعالیٰ ان کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ جائیداد یا اور اَور اسباب واحباب پر اس قدر بھروسہ کیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے بکلّی دُور جا پڑے۔یہ خطرناک شرک ہے، جو قرآن شریف کی تعلیم کے صریح خلاف ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وفی السماء رزقکم و ما تو عدون(الذار یات : ۲۳)
اور فرمایا
و من یتوکل علے اللہ