تم بہت سے نشانات دیکھ چکے ہو اور حروف تہجی کے طور پر اگرایک نقشہ تیار کیا جاوے،تو کوئی حرف باقی نہ رہے گا کہ اس میں کئی کئی نشان نہ آئیں۔تریاقؔ القلوب میںبہت سے نشان جمع کئے گئے ہیں اور تم نے اپنی آنکھوں سے پُورے ہوتے دیکھے۔
اب وقت ہے کہ تمہارے ایمان مضبوط ہوں اور کوئی زلزلہ اور آندھی تمہیں ہلانہ سکے۔ بعض تم میں ایسے بھی صادق ہیں کہ اُنہوں نے کسی نشان کی اپنے لیے ضرورت نہیں سمجھی۔ گو خدا نے اپنے فضل سے ین کو سینکڑوں نشان دکھا دئیے۔ لیکن اگر ایک بھی نشان نہ ہوتا، تب بھی وہ مجھے صادق یقین کرتے اور میرے ساتھ تھے،چنانچہ مولوی نورالّدین صاحب کسی نشان کے طالب نہ ہوئے۔انہوں نے سنتے ہی آمنّا کہہ دیا اور فاروقی ہو کر صدّیقی عمل کر لیا۔ لکھّا ہے کہ حضرت ابو بکر شام کی طرف گئے ہوئے تھے۔ واپس آئے تو راستہ میں ہی آنحضرت ا کے دعویٰ نبوّت کی خبر پہنچی وہیں اْنہوںنے تسلیم کر لیا‘‘۔
حضرت اقدسؑ نے اس قدر تقریر فرمائی تھی کہ مولانا مولوی نُورالدین صاحب حکیم الامّت ایک جوش اور صدق کے نشہ سے سرشار ہو کر اُٹھے اور کہا کہ مَیں اس وقت حاضر ہوا ہوں کہ حضرت عمر ؓنے بھی رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضوررضیت باللہ ربّاوبمحمد نبیا کہہ کر اقرار کیا تھا۔ اب میں اس وقت صادق امام مسیح موعود اور مہدی معہود کے حضور وہی اقرار کرتا ہوں کہ مجھے کبھی ذرا بھی شک اور وہم حضور کے متعلّق نہیں گزرا اور یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ بہت سے اسباب ایسے ہیں جن کا ہمیں علم نہیں۔اور میں نے ہمیشہ اس کو آداب نبوّت کے خلاف سمجھا ہے کہ کبھی کوئی سوال اس قسم کا کروں۔ میں آپ کے حضور اقرار کرتا ہوں۔رضینا با للہ ربا وبک مَسِیحاومھدیا ٭
اس تقریر کے ساتھ ہی حضرت اقدسؑ نے بھی اپنی تقریر ختم کر دی
سیّدنا حضرت امام آخرالزمان مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والّسلام نے فرمایا: