ایک بہت ہی ضروری امر ہے جو میں بیان کرنا چاہتا ہوں، اگر چہ میرے طبیعت بھی اچھی نہیںہے لیکن کل نواب صاحب جو جانیوالے ہیں۔ اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ میں بیان کروں تاکہ وہ بھی سن لیں اورجماعت کے دوسرے لوگ بھی سن لیں اور وہ یہ ہے: کہ تمام انبیاء علیہم السّلام جو دنیا میںآئے ہیں۔ اگر چہ انھوں نے جو احکام دنیا کو سنائے وہ مبسوط اور مُطَوَّل تھے اور بہت کچھ جزئیات بھی بیان کر دیں اور تمام امُور جو توحید ، تہذیب، معاملات اور معاد کے متعلق ہوتے ہیں۔ غرض جس قدر امُور انسان کو چاہئیں، ان سب کے متعلق وہ ہر قسم کی ہدائتیں اور تعلیمیں لوگوں کودیا کرتے تھے۔ باوجود ان ساری جزئی تعلیموں اور ہدایتوں کے ہر ایک نبی کی اصل غرض اور مقصد یہ رہا کے لوگ گناہوں سے نجات پاکر اور ہر قسم کی بدیوں اور بدکاریوں سے بکلّی نفرت کر کے خدا ہی کے لیے ہو جاویں۔انسانی پیدائش کی اصل غرض اور مقصد بھی ینی ہے کہ وہ خدا کے لیے ہو جائے۔ اس لیے انبیاء علیہم السّلام کی بعثت کی غرض اسی مقصد کی طرف انسان کو رہبری کرنا ہوتا ہے کہ وہ امنی گم گشتہ متاش اور مقصد کو پھر حاصل کرے۔ گناہ اگر چہ بہت ہیں اور ان کے بہت سے شعبے اور شاخیں ہیں۔ یہانتک کہ ہرادنیٰ قسم کی غفلت بھی گناہ میں داخل ہے۔ لیکن عظیم الشان گناہ جو اس مقصدِ عظیم کے بالمقابل انسان کو اصل مقصد سے ہٹانے کے لیے پڑا ہوا ہے، وہ شرک ہے۔انسان کی پیدائش کی اصل غرض اور مقصد یہ ہے کہ وہ خدا ہی کے لیے ہو جائے اور گناہ اور اس کے محرکات سے بہت دور رہے اِس لیے کہ جُوں جُوں بدقسمت انسان اس میں مبتلا ہوتا ہے ،اُسی قدر اپنے اصل مدّعا سے دور ہوتا جاتا ہے۔ یہانتک کہ آخر گرتے گرتے ایسی سفلی جگہ پر جا پڑتا ہے جو مصائب اور مشکلات اور ہر قسم کی تکلیفوں اور دکھوں کا گھر ہے جس کو جہنّم بھی کہتے ہیں۔ دیکھو انسان کا اگر کوئی عضو اپنی اصل جگہ سے ہٹا دیا جائے۔ مثلاً بازُو ہی اگر اُتر جاوے یا ایک انگلی یا انگوٹھا ہی اپنے اصل مقام سے ہٹ جاوے، تو کس قدر درد اور کرب پیدا ہوتا ہے۔ یہ جسمانی نظارہ رُوحانی اور اُخروی عالم کے لیے ایک زبردست دلیل ہے اور جہنّم کے وجُود پر ایک گواہ ہے۔ گناہ یہی ہوتا ہے کہ انسان اس مقصد سے جو اس کی پیدائش سے رکھا گیا ہے، دُور ہٹ جاوے۔ پس اپنے محل سے ہٹنے میں صاف درد کا ہونا ضروری ہے۔ شِرک ایسی چیز ہے کہ جو انسان کو اس کے اصل مقصد سے ہٹا کر جہنّم کا وارث بنا دیتا ہے۔ شِرک کی کئی قِسم ہیں۔ ایک تو وہ موٹا اور صریح شِرک ہے جس میں ہندو، عیسائی ،یہودی اور دوسرے بُت پرست لوگ گرفتار ہیں۔ جس میں کسی انسان یا پتھّر یا اور بے جان چیزوں یا قوتوں