ایلیا نہیں آیا۔اور اگر خدا ہم سے پوچھے گا تو ہم ملاکی نبی کی کتاب پیش کردیں گے ۔ اس قدر معجزات جو حضرت مسیح سے صادر ہوئے بیان کئے جاتے ہیں کہ وہ مردوںکو زندہ کرتے تھے ایلیا کو بھی زندہ کر کے لے آتے ۔ایماناً بتائو کہ ایلیا کا ابتلا بڑا تھا یا نمازوں کو جمع کرنے کاابتلا ء،لوگ جس نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھا دیا ۔ اب اس قدر لوگ جو گمراہ ہوئے اور مسیح اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر رہے تو اس کا باعث وہی ایلیا کا ابتلاء ہی ہے یا کچھ اور غرض ابتلا کا آنا ضروری ہے مگر سچا مومن کبھی ان سے ضائع نہیں کیا جاتا ۔اس قسم کے لوگوں نے کسی زمانہ سے بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔کیا حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے میں انہوں نے فائدہ اٹھایا یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں۔ میں نے عام طور پر شائع کیا کہ استجابت دعا کا نشان مجھے دیا گیا ہے جو چاہے میرے مقابلے پر آئے میں نے کہا کہ جو مجھے حق پر نہیں سمجھتا وہ میرے ساتھ مباہلہ کر لے میں نے یہ بھی شائع کیا کہ قرآن کریم کے حقائق و معارف کا ایک نشان مجھے عطا ہوا اس میں مقابلہ کر کے دیکھ لو مگر ایک بھی ایسا نہ ہوا جو میرے سامنے آتا اور میری دعوت کو قبول کر لیتا ۔پھر خدا نے مجھے بشارت دی کہ ینصرک اللہ فی مواطن اور اس کا ثبوت دیا کہ ہر میدان میں مجھے کامیاب کیا پس اگر ان نشانات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا اور اس کی تسلی نہیں ہوتی پھر وہ کسی اور کے پاس جاوے یا کسی عیسائی کے پاس جاوے اور تسلی کر لے اگر کر سکتا ہے لیکن سچائی کو چھوڑ کر تسلی کہاں؟ فما ذا بعد الحق الا الضلال( یونس:۳۳) ایسے لوگ لا من الاحیاء و لا من الاموات کے مصداق ہوتے ہیں غرض نمازوں کے جمع کرنے میں ایک راز اور سر تھا اور انما الاعمال بالنیات۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ آیا یہ سستی اور کسل کی وجہ تھا یا ایک مقبول اور مبارک طریق پر ۔ یاد رکھو کہ اس قدر نشانات دیکھ کر بھی جسے کوئی شک وشبہ گزر سکتا ہے تو اسے ڈرنا چاہئے کہ شیطان عدو مبین ساتھ ہے۔میں جس راہ کی طرف بلاتا ہوں یہی وہ راہ ہے جس پر چل کر غوثیت اور قطبیت ملتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے انعام ہوتے ہیں جو لوگ مجھے قبول کرتے ہیں ان کی دین و دنیا بھی اچھی ہو گی کیونکہ اللہ تعالیٰ وعدہ فرما چکا ہے وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الی یوم القیامۃ( آل عمران:۵۶) درحقیقت وہ زمانہ آتا ہے کہ ان کو امیت سے نکال کر خود قوت بیان عطا کرے گا اور وہ منکروں پر غالب ہوں گے،لیکن جو شخص دلائل اور نشانات کو دیکھتا ہے اور پھر دیانت ،امانت،انصاف کو ہاتھ سے چھوڑتا ہے اسے یاد رکھنا چاہئے کہ من اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا او کذب بآیاتہ (الانعام:۲۲)