اپنے مخالفوں سے سننا پڑا۔یہ اسی سنت کے موافق ہے مایاتیہم من رسول الا کانو ابہ یستھزء ون(الحجر:۱۲)افسوس ا گر یہ لوگ صاف نیت سے میرے پاس آتے تو میں ان کو وہ دکھاتا جو خدا نے مجھے دیا ہے اور وہ خدا خود انپر اپنا فضل کرتا اور انہیںسمجھا دیتا ، مگر انہوں نے بخل اور حسد سے کام لیا ۔اب میں ان کو کس طرح سمجھائوں۔ جب انسان سچّے دل سے حق طلبی کے لیے آتا ہے ،تو سب سے فیصلے ہو جاتے ہیں۔لیکن جب بد گوئی اور شرارت مقصود ہو ،تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔میں کب تک ان کے فیصلے کرتا رہوں گا ۔ حجج الکرامہ میں ابن عربیؔکے حوالے سے لکھّا ہے کہ مسیح موعوؑدجب آئے گا،تو اسے مفتری اور جاہل ٹھہرایا جائے گا۔اور یہاںتک بھی کہا جاوے گا کہ وہ دین کو تغیر کرتا ہے ۔ اس وقت ایسا ہی ہو رہا ہے۔اس قسم کے الزام مجھے دیے گئے جاتے ہیں ۔ان شبہات سے انسان تب نجات پا سکتا ہے،جب وہ اپنے اجتہاد کی کتاب ڈھانپ لے اور اس کی بجائے وہ یہ فکر کرے کہ کیا یہ سچا ہے یا نہیں۔بعض امور بیشک سمجھ سے با تر ہوتے ہیں ،لیکن جو پیغمبر وں پر ایمان لاتے ہیں۔وہ حسنِ ظن اور صبر و استقلال سے ایک وقت کا انتظار کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر اصل حقیقت کو کھول دیتا ہے رسول اللہ اکے وقت صحابہ سوال نہ کرتے تھے ،بلکہ منتظر رہتے تھے کہ کوئی آکر سوال کرے تو فائدہ اٹھا تے تھے،ورنہ خود خاموش سرتسلیم کئے بیٹھے رہتے تھے اور جرأت سوا ل کرنے کی نہ کرتے تھے۔میرے نزدیک اصل اور اسلم طریق یہی ہے کہ ادب کرے۔جوشخص آداب النبیؐ کونہیں سمجھتا اوراس کو اختیار نہیں کرتا۔اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ ہلاک نہ کیا جائے۔ وہ لوگ بڑی غلطی پر ہیں،جو ایک ہی دن میں حق الیقین کے درجے پر پہنچنا چاہتے ہیں۔یاد رکھوکہ ایک ظن ہوتا ہے اور ایک یقین ۔ظن صرف خیالی بات ہوتی ہے اور اس کی صحت اور سچائی پر کوئی حُکم نہیں ہوتا۔بلکہ اس میں احتمال کذب کا ہوتا ہے لیکن یقین میں ایک سچائی کی روشنی ہوتی ہے یہ سچ ہے کہ یقین کے بھی مدارج ہیں۔ایک علم الیقین ہوتا ہے پھر عین الیقین اور تیسرا حق الیقین ۔جیسے دور سے کوئی آدمی دھواں دیکھتا ہے تو آگ کا یقین کرتا ہے اور یہ علم الیقین ہے اور جب جا کر دیکھتا ہے تو وہ عین الیقین ہے اور جب ہاتھ ڈال کر دیکھتا ہے کہ وہ جلاتی ہے تو وہ حق الیقین ہے ۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کی ابھی ظن سے مخلصی نہیں ہوئی ؛ جبکہ سنت اللہ اسی طرح پر ہے کہ جو مامور آتے خدا کی طرف سے آتے ہیں ان کے ساتھ ابتلاء ضرور ہوتے ہیں پھر میں کیوں کر ابتلاء کے بغیر آ سکتا تھا۔اگرا بتلاء نہ ہوتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بنی اسرائیل میں سے آ جاتے۔تا کہ ان کو یہ کہنے کا موقعہ نہ ملتاکہ آنے والے کے لئے لکھا ہے کہ وہ تیرے بھائیوں میں سے ہو گا۔اوراسی طرح حضرت مسیحؑ کے وقت ایلیا ہی آجاتا کہ ان کو ٹھوکر نہ لگتی ایک یہودی فاضل نے اس پر ایک بڑی کتاب لکھی ہے وہ کہتا ہے کہ ہمارے لئے یہی کافی ہے کہ