نے جہاد کی حرمت کا فتوی دیا ہے اور شائع کر دیا ہے کہ دین کے لئے تلوار اٹھانا حرام ہے پھر اس کی پرواہ کیوں کرتے ہو ہمارے مخالف تو یضع الجزیۃ کہتے ہیں مگر میں کہتا ہوں کہ یضع الحرب درست ہے غرض اگر اب یہ چاہیں کہ ان لوگوں کے پنجوں سے بچ جائیں، یہ مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے جب تک پورے برگشہ نہ ہو جائیں پس اب’’ یک در گیر محکم گیر ‘‘پر عمل کرو۔ جو شخص ایمان لاتا ہے ۔اسے اپنے ایمان سے یقین اور عرفان تک ترقی کرنی چاہئے نہ یہ کہ وہ پھر ظن میں گرفتار ہو۔ یاد رکھو۔ظن مفیدنہیں ہو سکتا ۔خداتعالیٰ خود فرماتا ہے ۔اِنَّ الظَّنَّ لَایُغْنِی مِنَ الْحَقِّ شَیئاً۔(یونس:۳۷)یقین ہی ایک ایسی چیز ہے جو انسان کو با مراد کر سکتی ہے ۔یقین کے بغیرکچھ نہیںہو تا۔ ا گر انسان ہر بات پر بدزنی کر نے لگے تو شائد ایک دم بھی دنیا میں نہ گزار سکے ۔وہ پانی نہ پی سکے کہ شاید ا س میں زہر ملا دیا ہوبازار کی چیزیںنہ کھا سکے ۔کہ ان میںہلا ک کر نے والی کوئی شے ہو ۔پھر کس طرح وہ رہ سکتا ہے یہ ایک موٹی مثا ل ہے اسی طرح پر انسا ن رو حا نی میں ا س سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔ اب تم ہے خود سو چ لو او ر اپنے دلو ں میں فیصلہ کر لو کہ کیا تم نے میرے ہاتھ پر جوبیعت کی ہے او ر مجھے مسیح مو عو د حکم۔عد ل ماناہے تو اس ما ننے کے بعد میرے اسی فیصلہ یافعل پر اگر دل میںکوئی کد ور ت یا رنج آتا ہے ،تواپنے ایمان کی فکر کرو ۔وہ ایمان جو خدشات اور تو ہمات سے بھر ا ہو ا ہے ،کوئی نیک نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں ہو گا لیکن اگر تم سچے دل سے تسلیم کر لیا ہے کہ مسیح مو عو د وا قعی حکم ہے تو پھر اس کے حکم اور فعل کے سا منے اپنے ہتھیار ڈال دو ۔ اور اسکے فیصلوں کو عز ت کی نگا ہ سے دیکھو تا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکی پاک باتوں کی عز ت اور عظمت کرنے والے ٹھہرو ۔رسو ل اللہ علیہ وسلم کی شہاد ت کافی ہے وہ تسلی دیتے ہیں کہ وہ تمھارا امام ہو گا وہ حکم عدل ہو گا اگر اس پر تسلی نہیں ہو ئی توپھر کب ہو گی۔یہ طریق ہر گزاچھا اور مبارک نہیں ہو سکتا کہ ایمان بھی ہو اور دل کے بعض گوشوں میںزنیاںبھی ہوں ۔میںاگر صاد ق نہیں ہوںتوپھر جائو اور صادق تلا ش کر و اور یقینا سمجھوکہ اس و قت اور صاد ق نہیںمل سکتا ۔او ر پھر اگر کوئی دوسرا صاد ق نہ ملے اور نہیں ملے گا تو پھر میں اتنا حق مانگتا ہوں جو رسول اللہ صلی علیہ وسلمنے مجھ کو دیاہے۔ جن لوگوں نے میراانکار کیا ہے اور جو مجھ پر اعتراض کرتے ہیں انہوں نے مجھے شناخت نہیں کیا اور جس نے مجھے تسلیم کیا اور پھر اعتراض رکھتا ہے ،وہ اور بھی بد قسمت ہے کہ دیکھ کر اندھا ہو ۔ اصل بات یہ ہے کہ معاشرت بھی رتبہ کو گھٹادیتی ہے ،اس لیے حضرت مسیح ؑ کہتے ہیںکہ نبی بے عزت نہیں ہوتا ۔مگراپنے وطن میں۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کو اہل وطن سے کیا کیاتکلیفیں اور صدمے اٹھانے پڑے تھے۔ سو یہ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ایک سنت چلی آئی ہے۔ہم اس سے الگ کیونکر ہو سکتے ہیں۔اس لیے ہم کو جو کچھ