شعبدے دکھائے اوراس نے کہا کہ میں مولویوں سے ان کی بابت کرامت کافتویٰ لے سکتاہوں مگر وہ خود جانتاتھا کہ ان کی اصلیت کیا ہے بعد میں وہ اس سلسلہ میں داخل ہوگیا اس نے توبہ کی ۔ جن ملکوں کے قصے بیان کئے جاتے ہیں وہاں اگر معجزے دکھانے والے ہوتے تو یہ فسق و فجور کے دریاوہاں نہ ہوتے ۔ خداتعالیٰ کے نشانات ایک پاک اثر ڈالتے ہیں اور اس کی ہستی کایقین دلاتے ہیں مگر یہ شعبدے انسان کو گمراہ کرتے ہیں ان کاخداشنای اور معرفت سے کوئی تعلق نہیں ہے اورنہ ہی یہ کوئی پاک تبدیلی پیدا کر سکتے ہیں اس لئے کہ یہ خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوتے ۔ ۱؎ ۱۵؍ نومبر ۱۹۰۲ء ؁ بروز شنبہ تائیدات الٰہیہ کاذکر ظہر کے وقت حضرت اقدس ان تائیدات الٰہی کاذکر فرماتے رہے جو ان ایام میں حضور کے شامل حال ہوتی جاتی ہیں اور باعث فتح ۔ نصرت و اقبال بن رہی ہیں ۔ ( یعنی اعجاز احمدی کی معجزانہ تصنیف اور اس کے بالمقابل مخالفوں کی شرمسار ی ۔) بعد ادائے نماز مغرب حضور شہ نشین پر جلوہ ا فروزہوئے ۔ طاعون کاعلاج بعض مریضوں کے حالات اور ان میں فوری تیز جلابوں سے جوعمدہ نتائج پیدا ہوئے تھے ان کاذکر حکیم نور الدین صاحب کرتے رہے حضرت اقدس نے اس کی تائید میں فرمایاکہ :۔ جب بمبئی میں طاعون کثرت سے پھیلی تو وہاں سے زین الد ین محمد ابراہیم صاحب انجینئر نے لکھاتھا کہ یہ ایک بار ہا تجربہ شدہ اور مفید علاج دیکھا گیا ہے کہ طاعون کے آثار نمودار ہوتے ہی پانچ یا چھ تولہ کے قریب میگنیشیات سالٹ مریض کو پلا دیا گیا ہے تو اسے پھر بفضل خدا ضرور آرام آگیا ہے ۔ ۲؎