۱۶؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز یکشنبہ
تر جمہ کافائدہ
ظہر کے وقت حضرت اقدس نے کچھ عرصہ مجلس فرمائی مولوی محمد احسن صاحب امروہی ایک نظر اعجاز احمدی پر کررہے تھے چونکہ یہ کتاب رات کو چھپی تھی اس لئے بعض جگہ سہو کاتب سے غلطی رہ گئی تھی اور بعض جگہ نقطہ وغیرہ لگانا یا دور کرنا رات کواندھیرے میں رہ گیا تھا اس کاذکر ہواتو حضرت اقدس نے فرمایا کہ
یہ کوئی غلطی نہیں ہواکرتی کیونکہ ساتھ ہی ترجمہ ہے اگر کوئی لفظ عربی ہے اور نقطہ وغیرہ کی غلطی ہے تو یہ نیچے دیاہوا ترجمہ اس کی صحت کرتاہے اور اگر ترجمہ میں کوئی غلطی رہ گئی تو پھر اصل عبار ت عربی موجود ہے اس سے اس کی صحت ہو جاتی ہے ۔
وہی شخص فائدہ اُٹھائے گا جو سچّا تقویٰ اختیار کرے گا
نماز مغرب کے بعداعجاز احمدی کے بارے میں اور اس کے اثر کے متعلق مختلف احباب ذکر کرتے رہے پھر سید عبداللہ صاحب عرب نے حضرت اقدس سے عرض کیا کہ میرے اطراف میں درد ہوتارہتاہے ۔
طاعون کاخطرہ ہے اگر حضور اپنا کرتہ عطا فرمائیں تو میں اس پہنے رہوں حضرت اقدس نے فرمایا کہ :۔
ہم کرتہ تو دے دیںگے مگر بات یہ ہے کہ جب تک اﷲ تعالیٰ کی رحمت اور فضل کا کرتہ نہ ہو پھر کوئی شئے کام نہیں آتی دیکھو میں جانتا ہوں کہ گوباربار اﷲ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ میری اور میری جماعت کی اس ذلت کی موت سے حفاظت فرمائے گا۔مگر رسمی مسلمان یا رسمی بیعت والے کا کوئی ذمہ دار نہیں ہے جب تک کہ ہمارے ساتھ والے کو حقیقی تقویٰ نصیب نہ ہو۔ایک مسلمان نے ایک دفعہ ایک یہودی کو کہا کہ تو مسلمان ہو جا اس یہودی نے کہا کہ تو اگر چہ مسلمان ہے مگر تو کوخئی عمدہ آدمی نہیں ہے اس لئے تم صرف صورت پر نازنہ کرو بلکہ حقیقت کام آتی ہے۔سنوأہمارے ہاں ایک دفعہ ایک لڑکا پیدا ہوا اور اس کا نام خالد رکھا گیا جس کے معنے ہیں ہمیشہ رہنے والا اور پھر اسی دن اسے دفن کر آئے وہ مر گیا اور خالد کا لفظ اس لڑکے کے کوئی کام نہیں آیا۔اسی طرح ہمیشہ انسان کے کام میں حقیقت اور روحانیت ہی کام دے گی۔
میرا دل ہر گز یہ قبول نہیں کرتا کہ ہماری جماعت میں جو سچاتقویٰ اور طہارت بھی رکھتا ہو