نشان دیکھتے ہو ئے بھی کوئی اعتراض کرتا اور علیحدہ ہوتا ہو تو بے شک نکل جائے اور علیحدہ ہو جاوے اس کی خدا کو کیا پرواہ ہے۔ وہ کہیں جگہ نہیں پا سکتا، جبکہ خدا تعالیٰ نے مجھے حکم و عدل ٹھہرایا ہے اور تم نے مان لیا ہے پھر نشانہ اعتراض بنانا ضعف ایمان کا نشان ہے حکم مان کر تمام زبانیں بند ہوجانی چاہئیں اگر مخالفوں کا خیال ہو تو انہوں نے پہلے کیا کچھ نہیں کہادجال بے ایمان کافر کفر تک ٹھہرایا اور کوئی گالی تک باقی نہ رہنے دی جو انہوںنے نہیں دی اور کوئی منصوبہ شرارت تکلیف دہی کا نہيں رہا جوا نہوں نے نہیں سوچا اور پھر باقی کیا رہ گیاجو غیروں کی پروا کرتا اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی پرواہ نہیں کرتاجب تک خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ حکم کی بات کے سامنے اپنی زبانوں کو بند نہ کرو گے وہ ایمان پیدا نہیں ہوسکتا جو خدا چاہتا ہے اور جس غرض کے لئے اس نے مجھے بھیجا ہے ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میرایہ عمل اپنی تجویز اور خیال سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی تفہیم سے ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے لئے ہے میں کسی اور حکم کی ضرورت نہیں سمجھتا جو چاہتا ہے اس کو قبول کرے اور جس کا دل مریض ہے وہ الگ ہو جائے میں ایسے لوگوں کو صلاح دیتا ہوں کہ وہ کثر ت سے استغفار کرے ر اور خدا سے ڈریں ایسانہ ہو کہ خدا انکی جگہ اور قوم لاوے۔ ایک بار مجھے الہام ہوا تھا کہ کوئی شخص میری طرف اشارہ کر کے کہتا ہے کہ ھذا الرجل یجیح الدین یہ شخص دین کی جڑھ اکھاڑتا ہے میں خوش ہوا کیونکہ آثار میں ایسا ہی لکھا ہے کہ مسیح اور مہدی کی نسبت ایسے فتوے دئے جائیں گے حجج الکرامہ میں ایسا ہی لکھا ہے ان عربی نے لکھا ہے جب مسیح نازل ہو گا تو ایک شخص کھڑا ہو کر کہے گا ان ھذ الرجل غیر دیننا۔ اور مجدد صاحب کے مکتوبات دوم میں صاف لکھا ہے کہ مسیح جو کچھ بیان کرے گا وہ اسرار غامضہ ہوں گے اور لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں گے حالانکہ وہ قرآن سے استنباط کرے گا پھر بھی لوگ ا س کی مخالفت کرین گے ۔اصل بات یہ ہے کہ جیسے مسیح موعود کے ساتھ جمع کا ایک نشان ہے عوام کے خیال کے موافق ایک تغیر بھی اس کے ساتھ ضروری ہے کیونکہ وہ بحیثیت حکم ہونے کے تمام بدعات اور خرابیوں کو جو فیج اعوج کے زمانہ میں پیدا ہو ئی ہیں دور کرے گااور لوگ ان کو تغیر دین کے نام سے یاد کریں گے۔میں پوچھتا ہوںکہ اگر تم مخالفوں سے ڈرتے ہو تو پھر مجھے قبول کرنے کا کیا فائدہ ہوا میری مخالفت میں کافر اور دجال ٹھہرائے گئے اور ااس سے بڑھ کر کیا ہوگا اور پھر اگر یہی بات ہے کہ اس کو تغیر دین کہتے ہیں تو بتائو کہ میں