بہت مفید کام کرتے ہیں ۔
نجات خداکے فضل سے ہوتی ہے
سید سرور شاہ صاحب نے مدارس سے آنے والے ہندولالہ بڈباپا کی طرف سے عرص کیا کہ رات کو انہوں نے ایک سوال کیا کہ اسلام کے سواغیر مذاہب کے لوگ جو نیکی کرتے ہیں کیا ان کو نجات ہے کہ نہیں ؟
حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃوالسلام نے فرمایا کہ
نجات اپنی کوشش سے نہیں بلکہ خداتعالیٰ کہ فضل سے ہوا کرتی ہے اس فضل کے حصول کے لئے خداتعالیٰ نے اپنا قانون ٹھہرایاہوا ہے وہ اسے کبھی باطل نہیں کرتا وہ قانون یہ ہے کہ
ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ آل عمران : ۳۲ ) اور ومن یبتع غیر الاسلام دینافلن یقبل منہ (آل عمران : ۸۶)
اگر اس پر دلیل پوچھو تو یہ ہے کہ نجات ایسی شئیے نہیں ہے کہ اس کے برکات اور ثمرات کاپتہ انسان کے مرنے کے بعد ملے بلکہ نجات تووہ امر ہے کہ جس کے آثار اسی دنیا میں ظاہرہوتے ہیں نجات یافتہ آدمی کو ایک بہشتی اسی دنیا میں مل جاتی ہے دوسرے مذاہب کے پابند بکلی اس سے محروم ہیں اگر کوئی کہے کہ اہل اسلام کی بھی یہی حالت ہے تو ہم کہتے ہیں کہ وہ اسی لئے اس سے بے نصیب ہیں کتاب اللہ کی پابندی نہیں کرتے اگر ایک شخص کے پاس سے دوا ہو اور وہ اسے استعمال نہ کرے اور لاپروائی دکھائے تو وہ بہر حال اس کے فوائد سے محرومرہے گا یہی حال مسلمانوں کا ہے ان کے پاس قرآن مجید جیسی پاک کتاب موجود ہے مگر وہ اس کے پابند نہیں ہیں مگر جولوگ خداتعالیٰ کلام سے اعراض کرتے ہیں وہ ہمیشہ انواراور برکات سے محروم رہتے ہیںپھر اعراض بھی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک صوری،ایک معنوی، یعنی ایک تو یہ ہے کہ ظاہری اعمال میں اعراض ہواور دوسرے یہ کہ اعتقاد میں اعراض ہو اور انسان کو انوار و برکات سے حصہ نہیں مل سکتاجب تک وہ اسی طرح عمل نہ کرے جس طرح خداتعالیٰ فرماتاہے کہ
کونو مع الصادقین ( التوبۃ :۱۱۹)
بات یہی ہے کہ خمیر سے خمیرلگتاہے اور یہی قائدہ ابتداء سے چلاآتاہے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم آئے تو آپ کے ساتھ انوار اور برکات تھے جن میں صحابہ ؓ نے بھی حصہ لیا پھر اسی طرح خمیر کی لاگ کی طرح آہستہ آہستہ ایک لاکھ تک ان کی نوبت پہنچی اوراس سے بڑھ کر دلیل یہ ہے کہ سوائے اسلام کے اورکسی مذہب میں برکات نہیں ہیں اوراسلام کے سوا اورکسی مذہب میں رکھاہواکیا ہے ؟