ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی گناہ سے خالی نہ تھے اگر چہ اور انبیاء سے بزرگ تر ہیں جن کے گناہ ان سے زیادہ تھے۔ حضرت اقدس نے فرمایا :ا- اصل میں یہ لوگ مذہب سے خارج ہیں خدا تعالیٰ کا خوف مطلق نہیں۔صرف کنبہ کا ہے۔ وہابیوں کی ظاہرپرستی اس کے بعد حضرت اقدس نے وہابیوں کے اخلاق اور ادب رسول پر اپنا ایک ذکر سنایاکہ ایک دفعہ جب آپ امرتسر میں تھے توغزنوی گردہ کے چند مولویوں نے آپ کو چائے دی چونکہ حضرت اقدس کے دائیں ہاتھ میں بچپن میں ضرب آئی ہوئی ہے اور ہڈی کوصدمہ پہنچاہوا ہے آپ نے بائیں ہاتھ سے پیالی لی تو اس پر غزنوی صاحبان نے فوراً بلاوجہ دریافت کئے کہناشروع کیا کے یہ خلاف سنت ہے آپ نے ان کوسمجھایاکہ آداب اور روحانیت بھی سنت ہیں پھر ان کو اصل وجہ بتلائی گئی اس کے بعد ان لوگوں نے آپ پر یہ اعتراض کیاکہ آپ نے تصنیفات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعریف کی ہے اس قدر نہ چاہئیے تھی ہم تو ان کو اسی قدر مانتے ہیں ۔ جس قدر حدیث سے ثابت ہوتاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ یونس بن متی سے بھی زیادہ نہیں ہے ۔ جسمانی طور پر جس قدر ترقیات آج ہوئی ہیں کیاوہ پہلے زمانوں میں تھیں؟ اسی طرح روحانی ترقیات کاسلسلہ ہے کہ ہوتے ہوتے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا ۔خاتم النبیین کے یہی معنے ہیں جب ان (وہابیوں)کی یہ حالت ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کونسی سچی محبت کر سکتے ہیں اور کیافائدہ اٹھاسکتے ہیں ؟ فرمایاکہ میرادل کبھی ان لوگوں سے راضی نہیں ہوا اور مجھے یہ خواہش کبھی نہیں ہوتی کہ مجھے وہابی کہاجائے اورمیرانام کسی کتاب میں وہابی نہ نکلے گا ۔ میں ان کے مجلسوں میں بیٹھا رہاہوں ۔ ہمیشہ لفاظی کی بو آتی رہی ہے یہی معلوم ہو اکہ ان میں نراچھلکا ہے مغز بالکل نہیں ہے مولوی محمد حسین نے خود حدیث کی نسبت اپنی اشاعت الستہ میں یہ بات لکھی ہے کہ ایک صاحب الہام