السلام کا سونٹا بھی اسی شان کا ہوتا تو چاہئے تھا کہ وہ بیھ کسی صندوق میں آج تک محفوظ چلا آتا اور یہودی لوگ اس کی زیارت کرواتے کہ یہ موسیٰ کا سونٹا ہے جسے انہوں نے سانپ بنایا تھا یہی حال مسیح کے مریضوں کی صحت کا ہے اب تو عیسائی لوگ پچھتا تے ہوں گے کہ کاس عیسیٰ علیہ السلام کوئی کتاب ہی بنا کر چھوڑ جاتے مگر یہ خاصہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے اور کسی نبی کا نہیں۔
نیّت پر ثواب
مدراس سے جو لالہ صاحب آئے ہوئے تھے ان کی نسبت حضرت اقدس اور حکیم صاحب اور مولوی صاحب یہ تذکرہ کرتے رہے کہ اس شخص کے دل میں کیا شوق ہے کہ اتنی دور دراز مسافت طے کر کے زیارت کے لئے آیا ہے حالانکہ یہ شخص نہ ہماری باتیں سمجھ سکتا ہے نہ انگریزی جانتا ہے حضور نے فرمایا
اﷲ تعالیٰ ہر ایک کی نیت پر ثواب دے دیتا ہے؎ٰ
۱۳؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز پنچشنبہ
نَو تعلیم یافتہ مُلحدین
بعد نماز مغرب نئے روشنی کے تعلیم یافتہ جو کہ خدا اور اس کے رسول اور اس کے احکام کو جواب دیئے بیٹھے ہیں ان کے ذکر پر حضور نے فرمایا کہ
وہ خدا جس میں ساری راحتیں مخفی ہیں وہ ان سے بالکل دور ہو گیا ہے جیسے کروڑہا کوس دور ہے اس صورت میں ان کا پھر خدا تعالیٰ سے کیا تعلق؟اور جن کو یہ مہذب کہتے ہیں ان کو کیا سمجھے بیٹھے ہیں-(گویا خدائی کا منصب و قالب سب ان کو دے دیا ہے) حب دنیا اور حب جاہ نے ان کو اندھا کر دیا ہے۔
ایک شخص نے ذکر کیا کہ علی گڑھ کے ایک طالب علم نے ایپی فینی میں ایک مضمون لکھا