۱۲؍نومبر ۱۹۰۲ء؁ بورز چہار شنبہ آخری زمانہ کی علامات بعد نماز مغرب مفتی محمد صادق صاحب نے سنایا کہ ایک انگریزی رسالہمیں لکھا ہے کہ ان ایام میں دنیا میں مختلف مقامات پر بڑی کثرت سے زلزلے آرہے ہیں اور آتشین مادے زمین سے نکل رہے ہیں اور زمین اونچی ہوتی جارہی ہے فرانس کے محققین نے لکھا ہے کہ دنیا کی قدیم سے قدیم تو اریخ میں زمین کے اس عظیم تغیر کی کہیں خبر نہیں ملتی۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ یوں تو زمین سے ہمیشہ کانیں نکلتی رہتی ہیں اور آتش فشاں پہاڑ پھٹتے رہتے ہیں مگر اب خصوصیت سے ان زلزلوں کا آنا اور زمین کا اٹھنا یہ آخری زمانہ کی علامتوں میں سے ہے اور اخرجت الارض اثقالھا (الزلزال : ۳) اسی طرف اشارہ ہے زمانہ بتلا رہا ہے کہ وہ ایک نئی صورت اختیار کر رہا ہے اور اﷲ تعالیٰ خاص تصرفات زمین پر کرنا چاہتا ہے۔ انزلنا الحدید حکیم نورالدین صاحب نے عرض کی کہ لوہا آج تک اس کثرت سے زمین سے نکلا ہے کہ اگر ایک جگہ جمع کیا جائے تو ایک اور ہمالہ پہاڑ بن جائے۔لوہے کی کانوں کی آج تک تہہ نہیں ملی کہ کہاں تک نیچے ہی نیچے نکلتا آتا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے بھی سونا اور چاندی کو چھوڑ کر انزلنا الحدید (حدید : ۲۶) ہی فرمایا ہے (یعنی یہی بنی نوع انسان کے لئے زیادہ نفع رساں ہے) کلام کے معجزہ کی اہمیّت پھر کلام کے معجزہ کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ صفحہ روزگار میں یاد رکھنے کے لئے جیسے یہ نشان ہوتا ہے اور کوئی نہین -یہ بیھ ایک ختم نبوت کا نسأن تھا اب بھی قرآن شریف کو جو کوئی دیکھے گا تو اسے معجزہ ہی نظر آئے گا اگر موسیٰ علیہ