کی بنیاد یہ ہے کہ آتھم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام دجال رکھا تو اسی وقت ’’آتھم نے توبہ توبہ کر کے کانوں پر ہاتھ رکھے اور کہا کہ مرزا صاحب مجھے ناحق مارتے ہیں میں نے تو دجال نہیں کہا‘‘ (مولوی عبد الکریم صاحب نے کہا مجھے یہ الفاظ خوب یاد ہیں) کیا یہ اس کا عمل رجوع تھا یا نہیں؟ لنڈن میں جھوٹے مسیح پگٹ کے بعد سچے مسیح کا قدم ہوگا مفتی محمد صادق صاحب نے ایک خط مسٹر پگٹ مدعی مسیح کو لندن میں لکھ کر مزید حالات اس کے دعویٰ کے دریافت کئے تھے جس کے جوا ب میں اس کے سکرٹری نے دو اشتہار اور ایک خط روانہ کیا تھا وہ حضرت اقدس کو سنائے۔پگٹ کے اشتہار کا جو عنوان انگریزی لفظوں میں تھا اس کے معنے ہیں کشتی نوح- حضرت اقدس نے فرمایا:- اب ہماری کشتی نوح جھوٹی پر غالب آجائے گی یورپ والے کہا کرتے تھے کہ جھوٹے مسیح آنے والے ہیں سوا ول لنڈن میں جھوٹا مسیح آگیا اس کا قدم اس زمین میں اول ہے بعد ازاں ہمارا ہو گا جو کہ سچا مسیح؎ٰ ہے اور یہ جو حدیثوں میں ہے کہ دجال خدائی اور نبوت کا دعویٰ کرے گا تو موٹے رنگ میں اب اس قوم نے وہ بھی کر دکھایا ڈوئی امریکہ میں نبوت کا دعویٰ کر رہا ہے اور پگٹ لندن میں خدائی کا دعویٰ کر رہا ہے اور اپنے آپ کو خد اکہتا ہے پگٹ کا خدا ہونا دوسرے لفظوں میں یہ گویا انجییل کی شرح آئی ہے اسے ایک فائدہ ہوا ہے کہ مسیح کو خد اماننے سے چھوٹ گیا کیونکہ آپ جو ساری عمر کے لئے خود خدا ہو گیا۔ ؎ٰ