۱۱؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز سہ شنبہ
دینی کاموں کیلئے دن رات ایک کر دو
ظہر کے وقت حضور تشریف لائے اور احباب کو فرمایا کہ
یہ وقت بھی ایک قسم کے جہاد کا ہے میں رات کے تین تین بجے تک جاگتا ہوں اس لئے ہر ایک کو چاہئے کہ اس میں حصہ لے اور دینی ضرورتوں اور دینی کاموں میں دن رات ایک کر دے۔
کلام کا نشان دائمی ہوتا ہے
کلام کی فصاحت اور بلاغت پر فرمایاکہ
دوسری قسم کے جس قدر نشانات ہوتے ہیں وہ تو غائب ہو جاتے ہیں مگر اس طرح کا نشان ہمیشہ قائم رہتا ہے بھلا اب موسیٰ کے سانپ کو کوئی دکھا سکتا ہے؟ مگر کلام کا معجزہ اور نشان ایسا ہوتا ہے کہ آئندہ آنے والے ہمیشہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نتیجہ نکالتے ہیں کہ فلاں شخص (مرد خدا) نے یہ کلام بطور نشان کے پیش کیا اور مخالف کچھ نظیر نہ لا سکے اور کچھ جواب نہ بن آیا۔
حافظ محمد یوسف کی نیش زنی
نماز مغرب سے پیشتر میر ناصر نواب صاحب نے امرتسر سے آکر بیان کیا کہ حافظ محمد یوسف صاحب ملے تھے اور ان سے باتیں ہوئیں آخروہ نیش زنی پر اتر آئے حضرت اقدس نے فرمایا-
اگر ہم کاذب ہیں تو ہم ادنیٰ سے ادنیٰ جو آدمی ہے اس سے بھی بدتر ہیں۔کاذب کی حقیقت ہی کیا ہوتی ہے۔
فارقلیط اور احمدؐ
نماز کے بعد مولوی محمد علی صاحب ایم-اے نے بیان کیا کہ ایک شخص نے فارقلیط کے بارے میں یہ اعتراض کیا ہے کہ اس کے معنے میگزین میں حق و باطل میں تمیز کرنے والا کے لئے گئے ہیں پھر یہ معنے لفظ احمد پر کیسے چسپاں ہو سکتے ہیں؟ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فارقلیط سے مراد احمد ہے لفظ احمد کی پیشگوئی کا ذکر کتب سابقہ میں کہاں ہے؟