ہمیشہ ہر وقت لڑائیوں اور فسادوں میں رہتے تھے ابو جہل ہی کو دیکھو کہ بدر کی جنگ میں مباہلہ بھی کر لیا اللھم من کان منا اقطع للرحم افسد فی الارض فاحنہ الیوم یعنی ہم دونوں میں سے جو زیادہ قطع رحم کرتا ہے اور زمین میں فساد ڈالتا ہے اس کو آج ہی ہلاک کر پھر اسی دن وہ قتل ہو گیا اس کو تو یہی خیال تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فساد برپا کر دیا ہے بھائی کو بھائی سے جدا کر دیا ہے اور ہر روز کا فتنہ برپا ہے لوگ آرام سے زندگی بسر کر رہے تھے ناحق ان کو چھیڑ دیا ہے اس کا اسی بناء پر یہ خیال تھا کہ یہ ضرور مفسد ہے۔ ایک فتنہ لعنت ہوتا ہے اور ایک فتنہ رحمت ہوتا ہے کوئی نبی نہیں آیا جس نے فتنہ نہیں ڈالا ہمیشہ نوبت جدائی اور فساد کی پہنچتی رہی۔پھر آخر انہیں میں سے جو نیک تھے اﷲ تعالیٰ ان کو لے آتا رہا۔دنیا میں ہمارے اس سلسلہ کے متعلق گھر گھر شور ہے بعض آدمی رافضیوں سے بڑھ گئے ہیں لعنت کی تسبیح رات دن پھیرتے ہیں اور انہی مخالفوں میں سے بعض ایسے نکلے ہیں کہ جان قربان کرنے کو تیار ہیں ہم تو اﷲ تعالیٰ سے شرمندہ ہیں ہماری طرف سے کوشش ہی کیا ہوئی ہے آسمان پر ایک جوش ہے وہی کشاں کشاں لوگوں کو لا رہا ہے۔ عیسائیوں کا مذہب اس کے بعد ایک شخص نظم سناتے رہے ایک مقام پر عیسائیوں کے ذکر پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ لوگ اتنا فلسفہ اور ہیئت پڑھ کر ڈوبے ہوئے ہیں چوڑھوں کا بھی کچھ مذہب ہوتا ہے کہ کچھ بات پیش کرتے ہیں مگر یہ تو بالکل ہی ڈوبے ہوئے ہیں۔ خواب میں گالیاں دینے کی تعبیر پھر ایک صاحب نے ایک خواب سنایا-ایک شخص اسے گالیاں دے رہا ہے حضور نے تعبیر فرمائی کہ خواب میں جو شخص گالیاں دینے والا ہوتا ہے وہ مغلوب ہوتا ہے اور جس کوگالی دی جاتی ہے وہ غالب ہوتا ہے۔؎ٰ