یلحقوا بھم ( الجمعہ:۴)کا وقت آنے والا ہے اور وہ وقت اب ہے یعنی میرا زمانہ یعنی مسیح موعود کا زمانہ اس لئے اللہ تعالٰینے تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعت ہدایت کے زمانوں کو بھی اس طرح پر ملایا ہے اور یہ بھی عظیم الشان جمع ہے اور پھر یہ بھی وعدہ ہے کہ سارے ادیان کو جمع کیا جائے گا اور ایک دین کو غالب کیا جائے گا یہ بھی مسیح موعود کے وقت کی ایک جمع ہے کیونکہ لیظہرہ علی الدین کلہ (الصف:۱۰) مفسروں نے مان لیا ہے مسیح موعود ہی کے وقت ہو گا۔ پھر یہ بھی کہ وہ امن کا زمانہ ہو گا کہ بھیڑیا اور بھیڑ ایک ہی گھاٹ پر پانی پئیں گے جیسا کہ اس وقت نظر آتا ہے ہمارے مخالفوں نے ہمارے قتل کے کس قدر منصوبے کئے مگر وہ کیوں کامیاب نہ ہو سکے اسی گورنمنٹ کے حسن انتطام اور امن کی وجہ سے ۔ پھر خدا نے یہ بھی ارادہ فرمایا ہوا تھا کہ اس زمانہ میں حقائق و معارف جمع کر دے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ جیسے ظہر و عصر جمع ہوئے ہیں کہ ظہر آسمان کے جلالی رنگ کا ظل ہے اور عصر جمالی رنگ کا اور خدا تعالیٰ دونوں کا اجتماع چاہتا ہے اور چونکہ میرا نام اس نے آدم بھی رکھا ہے اور آدم کے لئے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے یعنی جلالی اور جمالی رنگ دونوں اس میں رکھے اس لئے اس جگہ بھی جلال اور جمال کا اجتماع کر کے دکھادیا۔ جلالی رنگ میں طاعون وغیرہ اللہ تعالیٰ کی گرفتیں ہیں اور انہیں سب دیکھتے ہیں اور جمالی رنگ ميں اس کے انعامات اور مبشرانہ وعدے ہیں اور پھر میری دانست میان اللہ تعالیٰ نے میرے سا تھ ایک اور جمع خبر بھی رکھی ہے جس کی خدا نے مجھے اطلاع دی اور وہ یہ ہے کہ میری پیدائش کے ساتھ ایک لڑکی بھی اس نے رکھی ہے اور پھر قومیت اور نسب میں بھی ایک جمع رکھی اور وہ یہ ہماری ایک دادی سیدہ تھی اور دادا صاحب اہل فارس تھے۔ اب بھی خدا نے اس قسم کی جمع ہمارے گھر میں رکھی کہ ایک صحیح النسب سیدہ میرے نکاح میں آئی اس طرح جیسے اب بھی خدا نے ایک عرصہ پہلے بشارت دی تھی اب غور تو کرو کہ خدا نے کس قدر اجتماع یہاں رکھے ہوئے ہیں ان تمام جمعوں کو خدا نے مصلحت عظیمہ کے لئے جمع کیا ہے ۔ ہماری جماعت کے لئے تو یہ امر دور از ادب ہے کہ وہ اس قسم کی باتیں پیش کریں یا ان کے وہم میں بھی اس قسم کی باتیں آئیں اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں جو کرتا ہوں وہ خدا تعالیٰ کی تفہیم اور اشارہ سے کرتا ہوں پھر کیوں اس کو مقدم نہیں کرتے اور پیش گوئی سمجھ کر عزت نہیں کرتے جیسے حضرت عمرؓ نے آنحضرت ؐ کی پیشگوئی سمجھ کر ایک صحابی کو سونے کے کڑے پہنا دئیے تھے۔اب تم بتائو کہ اور کیا چاہتے ہو۔خدا نے اس قدر نشان تمہارے لئے جمع کر دئے ہیں اگر خدا تعالیٰ پر ایمان ہو تو کوئی وہم اور خیال اس قسم کا پیدا نہیں ہو سکتا جس سے اعتراض کا رنگ پایا جائے اور اگر اس قدر