کشتی نوح کی اشاعت کثرت سے کی جائے خواجہ کمال الدین صاحب نے نماز مغرب سے پیشتر حضرت اقدس کانیاز حاصل کیااورپشاور اور کوہاٹ کاذکر سنایا کہ وہاں پر اکثر اشتہارات جو کہ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ میں حضور کی مخالفت میں شائع ہوئے ہیں اس نظر سے پڑھے جاتے ہیں کہ گویا وہ حضور کے اشتہارات ہیں اسی مغالطہ سے سر حد کے لوگوں کے دلوں پر آپ کے متعلق خیالات ذہن نشین ہیں کہ نعوذباللہ جناب نے روزے اپنے خدام کو معاف کر دئیے ہیں اور نبی کریم ﷺکی ہتک کی ہے اور کہا ہے کہ نعوزباللہ وہ ایک جھوٹے نبی تھے میں ان سے افضل ہوں غرض یہ اشتہاراس واضع اور عنوان سے لکھے ہوئے ہیں کہ عوام الناس کو دھوکالگتاہے اوریہی خیال کیا جاتاہے کہ آپ کا آپ کا مضمون اور آپ کی تحریر ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ کشتی نوح وہاں کثرت سے تقسیم کر دی جائے یہی کافی ہے خواجہ صاحب نے کہا ایک ذی وجاہت شخص کو میں نے دیکھا ہے کہ اس نے اسے پڑھ کر کہا کہ کتاب (کشتی نوح) تو عمدہ ہے اگر آخر میں مکان کے چندہ کا ذکر نہ ہوتا۔میں نے اسے جواب دیا کہ کیا تم سے بھی ایک پیسہ مرزا صاحب نے مانگا ہے؟ یا تم نے دیا ہے؟ حضرت مرزا صاحب نے تو ان لوگوں کو مخاطب کیا ہے جو ان سے تعلق ابنیت کا رکھتے ہیں۔کیا اگر ایک باپ اپنے بیٹوں سے دو ہزار اس لئے طلب کرے کہ اسے ایک مکان بنانا ہے تو کیا یہ فعل اس کا قابل اعتراض ہو گا؟ اس پر وہ خاموش ہو گیا۔ مخالفین کے اشتہارات ترقّی میں مانع نہیں حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ سب باتیں توہیں لیکن اندر ہی اندر ترقی ہو رہی ہے خدا تعالیٰ کا فضل ہے اس طرح کے اشتہارات جو مخالفین کی طرف سے شائع ہوتے ہیں یہ خدا تعالیٰ کی کارروائی میں مضر معلوم نہیں ہوتے کیونکہ جب تک تپش نہ ہو بارش نہیں ہوتی۔ہم سب پر بدظنی نہیں کرتے انہیں میں سے لوگ نکلنے شروع ہو جاتے ہیں کئی خط اس طرح کے آتے ہیں کہ ہم پہلے مخالف تھے گالیاں دیتے تھے مگر اب ایک راہ چلتے سے اشتہار دیکھ کر بیعت کرتے ہیں اس سے پیشتر بھی یہ کارروائیاں چپ چاپ نہیں ہوئیں۔مکہ میں کیا ہوتا رہا خدا تعالیٰ تماشا دیکھتا ہے کیا کفار امن سے رہتے تھے وہ بھی