دجّال کے دونوں آنکھیں عیب دار ہیں دجّال کے ایک چشم ہونے پر فرمایاکہ میں نے اس کی نسبت یہ بھی سنایادیکھاہے کہ اس کی دونوآنکھیں ہی عیب دار ہوں گی۔ جیسے کہاکرتے ہیں کہ ایک چشم گل اوردیگر بالکل۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ انہوں نے دوکتابوں پر غور کرتی تھی ایک توریت ، دوسرے قرآن مجید ۔سو قرآن مجیدکے متعلق تو آنکھ رہی نہیں اوروہ کچھ بھی نہیں دیکھتے اور توریت پر بھی کچھ دھندلی سی نظر ہے کہ اسے اپنی تائیدمیں برائے نام رکھتے ہیں ۔ ۱؎ ۱۰ ؍ نومبر ۱۹۰۲ء بروزدو شنبہ فجرکے وقت مولوی محمد علی صاحب شاعر سیالکوٹی سے فرمایا کہ آپ کومختلف مقامات دیہات میں تبلیغ کے لئے پھرناہوگا جسے مولوی صاحب نے بطِیبِ خاطر منظور کیا ۔ اعجاز احمدی ظہر کی نماز سے پشتر حضرت اقدس نے مضمون زیر قلم ۲؎فرمایاکہ۔ کلام کامعجزہ آدم علیہ السلام سے لیکر آنحضرت ﷺکے زمانہ تک چارہزار برس ہوئے ہیں سوائے قرآن مجید کے اور کسی نے نہیں دکھایا اورنہ کسی نے دیکھا ۔ چونکہ یہ معجزہ ایک ہی کتاب کے متعلق ہے اس لئیے مناسب معلوم ہوتاہے کہ اس پر زور ڈالاجائے کہ لوگ خوب سمجھ لیں ۔ کیاان مخالف لوگوں کے پاس قلم نہیں ہے؟ وقت نہیں یاالفاظ نہیں ؟ میراتو ایمانہے کہ یہ خداتعالیٰ کانشان ہے اورایک آفتاب کی طرح نظرآتاہے میں اسے بیان نہیں کر سکتا خداتعالیٰ ہی سب کچھ کروایاورنہ ہم توسب کچھ چھوڑبیٹھے تھے مارمیت اذ رمیت ولکن اللہ رمی ( الانفال : ۱۸)