بیان کیا گیا ہے اوران کتابوں میں صرف لفظوں کااتباع کیاگیاہے واقعات سے کوئی غرض ہی نہیں رکھی گئی ۔ ۲؎ مبائعین کی خوش قسمتی آج کے مبائعین میں سے ایک نے کچھ اظہار محبت کے کلمات کہے حضرت اقدس نے فرمایاکے آپ بڑے خوش قسمت ہیں کہ جو بڑے بڑی مولوی تھے ان کے لئے خدانے دروازے بند کر دئے ہیں اور آپ پرکھول دئیے خداتعالیٰ کاآپ لوگوں پر بہت بڑاحسان ہے دعاکی درخواست پر فرمایاکہ میں اپنے دوستوں کے لئے پنج وقتہ نمازوں میں دعاکرتاہوں اورمیں توسب کوایک سمجھتاہوں ۔ ایک پنجابی نظم اس کے بعد ایک امر تسر ی دوست نے اپنی پنجابی نظم سنائی ۔جس میں انہوں نے اپنے ایک خواب کاذکر اور حضرت اقدس کی زیارت کاشوق اوربیعت کی کیفیت اورحضرت اقدس کے فیوض و برکات کاذکر دردِدل اور دلکش پیرایہ میں کیاہواتھا حضرت اقدس خود بار بار زبان مبارک سے فرماتے تھے کہ ’’درد اور رقت سے لکھاہواہے ‘‘ سَیّداحمد شہید کے شروع کردہ کام کااتمام ایک مقام پر حضرت اقدس نے فرمایاکہ ہند میں دو واقعہ ہوئے ہیں ایک سید احمد ؒ صاحب کااوردوسراہمارا ۔ ان کاکام لڑائی کرنا تھا انہوں نے شروع کردی مگر اس کااتمام ہمارے ہاتھوں مقدر تھا جوکہ اب اس زمانہ میں بذریعہ قلم ہورہا ہے اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام کے وقت جونامرادی تھی وہ چھ برس بعد آنحصرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے رفع ہوئی ۔خداتعالیٰ بھی فرماتاہے کہ وہ کامیابی ا ب ہوئی ۔