۹؍نومبر۱۹۰۲ء بروزیکشنبہ
اعجاز احمدی اللہ تعالیٰ کی خاص مددسے لکھی گئی ہَے
حسب معمول نماز مغرب کے بعد حضور شہ نشین پر جلوہ فروز ہوئے اور جو مضمون مشمولہ قصائد ۲؎عربی آج کل زیر تحریر ہے اس متعلق زبان مبارک سے ارشاد فرمایاکہ
اس کی نسبت دل گواہی دیتاہے ۔ کہ یہ بالکل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔
(مولوی عبدالکریم صاحب کی طرف مخاطب ہو کر فرمایا)
آپ بھی دیکھیں گے تو پتہ لگ جائے گاجس طرح کلمہ کی گواہی دی جاتی ہے اسی طرح اس کی بھی گواہی دی جاتی ہے کہ یہ منجانب اللہ ہے یہ حالت بھی ہوتی ہے کہ ذراسی اونگھ آئی اور ایک شعر الہام ہوگیا اسی طرح کئی اشعار اس میں الہامی ہیں وحی جلی بھی ہوتی ہے اورخفی بھی یہی معلوم ہوتاتھا کہ دل میں مضمون پڑجاتا ہے اور میں لکھتاہوں گویایہ میری طرف سے نہیں ہے ( اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ) خداتعالیٰ کی مددسے اس قدر یقین ہے کہ یہ کاروبارایک دن میں ہوسکتاتھا دیرتواس لئے لگتی ہے دوبارہ دیکھنا پڑتا ہے کاپی وغیرہ بھی صحیح کرنا فرض ہے ہر ایک بات میں دیکھا گیا ہے کہ سب سامان خدا تعالیٰ نے اول ہی سے کیے ہوئے ہیں قصیدوں میں واقعات کا نبھانا ایک مشکل امر ہوا کرتا ہے شاعر ایسا نہیں کرسکتے ان کو قافیہ ردیف کے لئے بالکل بے جوڑ باتیں اور الفاظ لانے پڑتے ہیں ( اس مقام پر عربی کے دو فقرے مقامات حریری سے پڑھے جن میں محض تلازم شعرکے لئے بالکل بے تعلق باتیں ذکر ہوتیں تھیں اس کے بالمقابل
قل ھواللہ احد ۔اللہ الصمد (الاخلاص : ۲۔۳ ) کودیکھو ۔ ۱؎
قرآن شریف کی فصاحت و بلاغت کے دعویٰ پر بعض نادان آریہ کہدیتے ہیںکہ مقامات حریری وغیرہ بھی فصیح و بلیغ ہیں مگر وہ یہ بتا سکتے کہ ان میں دعویٰ کہاں کیاگیاہے اور ان کتابوں میں کہاں پر یہ بتصریح لکھاگیاہے کہ قرآن مجید کی تحدی کے مقابلہ میں ہیں اور علاوہ ازیں ان کو قرآن کی مقابلہ میں پیش کرنابالکل لغو ہے قرآن شریف میں حقائق و معارف کو