نہیں ۔
کشمیر سے ایک پُرانے صحیفہ کی برآمدگی
اس کے بعد مولوی محمد علی صاحب نے ایک خط سنایاجس کاخلاصہ یہ تھا کہ کشمیر سے ایک پرانا صحیفہ ایک پادری نے حاصل کیا ہے کہ جو کہ دو ہزار سال کا ہے اس میں مسیح کی آمد اوراس کے منجی ہونے کی پیش گوئی ہے حضرت اقدس نے فرمایاکہ
بعض وقت پادری لوگ عیسوی مذہب کی عظمت دل نشین کرانے کے واسطے ایسی مصنوعات سے کام لیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس کا معیار یہ ہے کہ اگر اس صحیفہ میں تثلیث کاذکر ہوتو سمجھناچاہئے کہ مصنوعی ہے کہ کیونکہ خود عیسویت کی ابتدامیں تثلیث کاعقیدہ نہ تھا بلکہ بعد میں واضع ہوا ہے ۔
عیسیٰ اصل ہَے یایسوع
پھر اس امر کاتذکرہ ہوتارہا کہ قدیم اوراصل لفظ عیسیٰ ہے یایسوع ۔ حضور نے فرمایا کہ
پرانانام عیسیٰ ہی ہے تمام عرب میں عیسیٰ کالفظ ہے یسوع کاذکر پرانے عرب اشعار میں بھی نہیں پایاجاتاچونکہ عیسیٰ نبی تھے اس لئے مصلحتاً انہوں نے کسی موقعہ پر عیسیٰ کو بدل کر یسوع بنا لیا ہو یہ بھی تعجب ہوتاہے کہ آج تک کسی اورنبی کانام نہیں الٹا صرف انہی کاالٹا اورمذہب انہیں کا الٹا ایسا ہی کسی کا شعر ہے ۔ ؎
نہ ہو کیونکر ہمارا کام الٹا
ہم الٹے، بات الٹی، یار الٹا
اس کے بعد حکیم نور الدین صاحب نے عرض کیا کہ ساری انا جیل میں کہیں عیسیٰ کانام نہیں آیا یسوع کاآیا ہے۔ ۱؎