آپ سچّے ہیں اس شخص کی ارادت ایک فقیر کے ساتھ تھی جوکہ داتا گنج بخش کے مقبرہ کے پاس رہاکرتاہے اس شخص نے فقیر سے ذکر کیا تو اس نے کہا کہ مرزا صاحب کی اتنے عرصہ سے ترقی ہونا ان کی سچائی کی دلیل ہے کہ پھرایک اورمست فقیر وہاں تھا اس نے کہاباباہمیں بھی پوچھ لینے دو دوسرے دن اس نے بتلایا کہ خدا نے کہا کہ مرزا مولا ہے پہلے فقیر نے کہا کہ مولناکہاہوگاکہ وہ تیرا اور میرا ہم جیسے سب کامولاہے ۔ حضرت اقدس نے فرمایاکہ آج کل خواب اور رؤ یابہت ہوتے ہیں معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتاہے کہ لوگون کہ خوابوںکہ ذریعہ اطلاع دے خداتعالیٰ کے فرشتے اس طرح پھرتے ہیں جیسے آسمان ٹڈ ی ہوتی ہے وہ دلوں میں ڈالتے پھرتے ہیںکہ مان لومان لو ۔ پھر ایک شخص کاحال بیان کیا جس نے حضور کے رد میں کتاب لکھنے کاارادہ کیا تو خواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ تو تو رد لکھتا ہے اور اصل میں مرزا صاحب سچے ہیں ۔ ساعَت کا علم کسی کونہیں بعدنماز مغرب حضرت اقدس حسب معمول شہ نشین پر جلوہ گر ہوئے اور ایک شخص کے سوال کے جواب میں فرمایاکہ اصل قیامت کا علم توسوائے خداتعالیٰ کے اور کسی کوبھی نہیں حتیٰ کہ فرشتوں کوبھی نہیں اور وہاں سَاعَۃکا لفظ ہے اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے عورتوںکے حمل کی میعاد نوماہ دس دنوں میں کسی کو خبر نہیں ہوتی کہ کونسے دن وضع حمل ہوگا گھر کاہر ایک بچہ جننے کی گھڑی کامنتظر رہتاہے اسی قیامت کانام سَاعَۃ رکھا ہے کہ اس گھڑی کی کسی کو خبر نہیں ۔ خداتعالیٰ کی کتابوںمیں اس کی جو علامات ہیں ممکن ہے کہ ان سے کوئی آدمی قریب قریب اس زمانہ کاپتہ دیدے مگر اس سَاعَۃ کی کسی کو خبر نہیں جیسے وضع حمل کی ساعت کی کسی کو خبر نہیں ۔ ایک ڈاکٹر سے بھی پوچھو تو وہ بھی کہے گانو ماہ اوردس دن ۔ مگر جونہی نوماہ گزریں پھر فکر رہتی ہے کہ دیکھیں کون دے دن اور کونسی گھڑی ہوکتابوں سے معلوم ہوتاہے چھ ہزار سال بعد قیامت قریب ہے اب چھ ہزار سال گذر گئے ہیں قیامت تو قریب ہوگی مگراس گھڑی کسی کو خبر