اور اندرونی اوربیرونی لوگ اور اپنے اور پرائے گویا سب ہی اس کی مخالفت پر کھڑے ہوجائیں اور پھربھی وہ حق آگے ہی آگے قدم رکھتاجائے اورکو ئی روک اس کی ترقی کو روک نہ سکے چنانچہ قرآن شریف میں ہے کہ فکیدو نی جمیعا ثم لا تنظرون (ہود : ۵۶) سو اس معیار سے ہمارے سلسلہ کوپرکھا جائے توایک طالب حق کے واسطے کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتاہے دیکھو نہ ہماراکوئی واعظ ہے ، نہ لیکچرار اور دشمن کیا بیرونی کیااندرونی سب اکٹھے ہو کر ہمارے تباہ کرنے کی کوشش میں لگے رہے مگر اللہ تعالیٰ نے ہر میدان میں کامیاب کیا اوردشمن ذلیل ہوئے کفر کے فتوے لگائے قتل مقدمہ مکیاغرض یہ کہ انہوں نے کوئی وقیقہ ہماری بربادی کااٹھانہ رکھا مگر کیا خداتعالیٰ سے کوئی جنگ کرسکتا ہے ؟ ہماری ترقی کے خود مخالف ہی باعث اورمحرک ہیں بہت لوگوں انہیںکے رسائل سے اطلاع پاکر ہماری بعیت کی ۔ اگرواعظ وغیرہ ہمار ی طرف سے ہوتے تو ہمیں ان کا بھی مشکور ہوناپڑتا اوریہ بھی ایک شعبہ شرک کا ہوجاتاہے مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے بچایا ایک آیپاشی اور تخم ریزی تو کسان کرتاہے اورایک خود خدا کرتاہے ہم اورہماری جماعت خداتعالیٰ کی تخم ریزی سے اورآبپاشی سے ہیں ۔ خدا کے لگائے ہوئے پودا کون اکھاڑسکتاہے ۔ ۱؎ مختلف باتوں کے دورا ن فرمایا:۔ قبول حق کے لئے قوت اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے آتی ہے اس کی توفیق کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ انبیا ء کے معجزات انبیاء نے کبھی تماشے نہیں دکھائے البتہ جب ان پر شدائداورمصائب آتے تھے تو اللہ تعالیٰ ان کی طرف سے تماشہ دکھایا کرتاہے ۔جیسے قلنا یانارکونی بردااوسلاماعلی ابراھیم ( الانبیاء : ۷۰ ) سے معلو م ہوتا ہے ایساہی ہم قتل مقدمہ بھی ایک نار تھا جس سے اللہ تعالیٰ نے نجات دی ۔ ایک خواب کی تعبیر میں فرمایاکہ انبیاء بھی قینچی کاکام کرتے ہیں ایک طرف سے قطع کرتے ہیں اوردوسری طرف پیوستکرتے ہیں۔