بیعت کرنے والے ہمارے بدن کے جُزو ہوگئے
منشی نعمت علی صاحب نے کھانے کے لئے عرض کیا ۔ فرمایا :۔
تکلف کی کیا ضرورت ہے ہم کھانا کھا چکے ہیں جب تم لوگوں نے بعیت کر لی توگویاہمارے بدن کے جزو ہوگئے پھر الگ کیارہ گیا یہ باتیں تو اجنبی کے لئے ہوتی ہیں ۔
جماعت کی اعجازی ترقّی
جماعت کی اعجازی ترقی کے ذکر پر فرمایا کہ
ہماری طرف سے کوئی سعی نہیں کی جاتی ہمارے واعظ نہیں بایں ہمہ اس قدر ترقی ہورہی ہے کہ عقل حیران ہے اوراصل یہ ہے کہ اگر ہمارری سعی اورکوشش سے کچھ ہوتاہے توشائد شرک ہوتاہے ۔اس لئے خداتعالیٰ خود جوچاہتاہے کرتا ہے ۔ ممالک مغربی و شمالی میں جہاں ہم کوتین آدمیوں کابھی علم نہیں مردم شماری کے رو سے نوسو سے زائد آدمی ہیں اوریہ جماعت اب ایک لاکھ سے زائد آدمی ہیں اور یہ جماعت اب ایک لاکھ سے بھی بڑھ گئی ہے ۔ یہ خداتعالیٰ کے کام ہیں ۔ خودمخالف محرک ہورہے ہیں بعض لوگوں کے خطوط آئے ہیں کہ محمد حسین کے رسالوں میں کوئی مضمون دیکھتے تھے توان سے معلوم ہواکہ آپ حق پر ہیں اوربعض ایسے خطوط بھی آئے ہیں کہ کوئی فقیر ایک کتاب لایا تھا وہ کتاب چھوڑگیا اور اس کا پتہ نہیں ۔
غرض اس پر ذکر فرماتے رہے کہ
مخالفوں نے ہر طرح مخالفت کی مگر خدانے ترقی کی ۔ یہ سچائی کی دلیل ہے کہ دنیا ٹوٹ کر زور لگا دے اورحق پھیل جاوے ۔ اب ہمارے مقابل کونسا وقیقہ مخالف کاچھوڑاگیا مگر آخر ان کوناکامی ہی ہوتی ہے یہ خداکانشان ہے اس میں دو چیزوں نے بڑی مدد دی ۔ طاعون نے بعیت کرنے والوں کو بڑھایااور مردم شماری نے تصدیق کی ۔ ۱؎
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا:
حق کی یہ بھی ایک پہچان ہے کہ اوراس کی شناخت کایہ ایک عمدہ معیار ہے کہ دنیا اپنے سارے ہتھیاروں سے اس کی مخالفت پر ٹوٹ پڑے جان سے ، مال سے ، اعضاء سے ،عزت سے ،