بابوکاہن چند ۔آپ نے اپنے رسالہ میں اورمعنے کئے ہیں ۔
فرمایا :۔
ہم نے اور معنے کبھی نہیں کئے ہم توہمیشہ یہی معنے کرتے ہیں آتھم نے بھی یہ سوال ہم سے کیا تھا اوراس کویہی جواب دیا گیا تھا انسان کو چاہئے کہ انصاف ہاتھ سے نہ دے یہ تو حلاوت کی بات ہے انسان اس سے اپنا ایمان بڑھاتا ہے اگر یہ بات نہ ہوتو پھر یہ سلسلہ ہی ختم ہوجاتا ہے ۔آج کل لوگ خداتعالیٰ کے قائل نہیں رہے بلکہ دہریہ ہیں اس لئے خداتعالیٰ نے اپنے جلال کو ظاہر کرنے کے واسطے ایک انسان کودنیا میں بھیجا ۔
کُنْتُمْ اَمْوَاتاً فَاحْیَاکُمْ (البقرہ :۲۹ ) کی تشریح
پنڈت صاحب کے چلے جانے کے بعد ایک شخص نے یہ آیت
کنتم امواتا فاحیاکم ثم یمیتکم ( البقرہ۲۹ )) کے معنے پوچھے ۔
فرمایا:۔
انسان پر ایک زمانہ آتاہے کہ وہ نطفہ ہوتاہے اوراس کاکوئی وجودنہیں ہوتا پھر مدارج سِتّہ سے گذر کر اس پر ایک موت آتی ہے اور پھر اسے ایک احیاء دیا جاتا ہے یہ ایک مسلم مسئلہ ہے کہ ہر حیات سے پہلے ایک موت ضرورآتی ہے ۔
اس آیت میں صحابہ ؓ کو مخاطب کر کے فرمایا ایک زمانہ انپر ایساگذرا ہے کہ وہ بالکل مردہ تھے یعنی ہر قسم ضلات اورظلمت میں مبتلاء تھے پھر ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ زندگی عطاہوئی اور پھر ان کے تکمیل اورایک موت ان پر وارد ہوئی جو فنا فی اللہ کی موت تھی اس کے بعد ان کوبقاباللہ کا درجہ ملا اورہمیشہ کے لئے زندگی پائی ۔
ایک حدیث کاذکر
ایک حدیث مولوی فتح الدین صاحب نے پیش کی جس کی تاویل کر کہ اسے مسیح موعود پر چسپاں جاتا تھا ۔
فرمایا:۔
کیا ضرورت ہے اس بات کی خداتعالیٰ نے کھلی کھلی تائیدیں ہمارے لئے رکھ دی ہیںکیا مَنَّا کُمْ ثَلٰثۃ‘‘ہمارے مخالفین کے لیے کافی نہیں ایک بخاری کا مَنْکُمْ (وَعَدَاللہ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْامَنْکُمْ ) (النور : ۵۶ )