اور ایماء القاء سے تھا؛حالانکہ مخالف تو خواہ مخواہ بھی جمع کر لیتے ہیں مسجد میں بھی نہیں جاتے۔ گھروں ہی میں جمع کر لیتے ہیں۔ مولوی محمد حسین ہی کو قسم دے کر پوچھا جاوے کہ کیا اس نے کبھی حاکم کے پاس جاتے وقات نماز جمع کی ہے یانہیں؟ پھرخدا تعالیٰ کے ایک عظیم الشان نشان پر کیوں اعتراض کیا جاوے۔اگر تقوی اور خدا ترسی ہو تو اعتراض کرنے سے پہلے انسان اپنے گھر میں سوچ لے کہ کیا کہتا ہوں۔اور اس کا اثر اور نتیجہ کیا ہوگا اور کس پر پڑے گا۔ میںنے اس اجتہاد میں یہ بھی سوچا کہ ممکن تھا کہ ہم دس دن ہی میں کام کو ختم کر دیتے۔ جو اس پیشگوئی کا پورا ہونے کا موجب اور باعث ہوا ہے مگرا للہ تعالیٰ نے ایسا ہی پسند کیا کہ جب یہ لوگ اپنے نفس کی خاطر دو مہینے نکال لیتے ہیں تو پیشگوئی کی تکمیل کے لئے ایسی مدت چاہئے جس کی نظیر نہ ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اگرچہ وہ مصالح ابھی تک نہیں کھلے۔ مگر اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور مجھے امید ہے کہ ضرور کھلیں گے۔ دیکھو ضعف دماغ کی بیماری بدستور لاحق ہے اور بعض وقت ایسی حالت ہوتی ہے کہ موت قریب ہو جاتی ہے تم میں سے اکثر نے میری ایسی حالت کو معائنہ کیا اور پھر پیشاب کی بیماری عرصہ سے ہے گویا دو زرد چادریں مجھے یہ پہنائی گئی ہیں ایک اوپر کے حصہ بدن میں اور ایک نیچے کے حصہ بدن میں اس بیماریوں کی وجہ سے وقت صافی کم ملتا ہے مگر ان ایام میں خدا تعالیٰ نے خاص فضل فرمایا کہ صحت بھی اچھی رہی اور کام ہوتا رہا مجھے تو افسوس اور تعجب ہوتا ہے کہ لوگ جمع بین الصلوٰتین پر روتے ہیں حالانکہ مسیح کی قسمت میں بہت سے اجتماع رکھے ہیں کسوف وخسوف کا اجتماع ہوا یہ بھی میرا ہی نشان تھا اور واذالنفوس زوجت( التکویر:۸) بھی میرے ہی لئے ہیں۔اور وآخرین منہم لما یلحقوا بھم( الجمعہ:۴)بھی ایک جمع ہی کیونکہ اول اور آخر کو ملایا گیا ہے اور یہ عظیم الشان جمع ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برکات اور فیوض کی زندگی پر دلیل اور گواہ ہے اور پھر یہ بھی جمع ہے کہ خدا تعالیٰ نے تبلیغ کے سارے سامان جمع کر دئیے ہیں چنانچہ مطبع کے سامان کاغذ کی کثرت ڈاک خانوں ، تار ریل ، اور دخانی جہازوں کے ذریعہ کل دنیا ایک شہر کا حکم رکھتی ہے اور پھر نت نئی ایجادیں اس جمع کو اور بھی بڑھا رہی ہیں کیونکہ اسباب تبلیغ جمع ہو رہے ہیں ا ب فونو گراف سے بھی تبلیغ کا کام لے سکتے ہیں اور اس سے بہت عجیب کام نکلتا ہے اخباروں اور رسالوں کا اجراء غرض اس قدر سامان تبلیغ جمع ہوئے ہیں کہ اس کی نظیر کسی پہلے زمانہ میں ہم کو نہیں ملتی بلکہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے اغراض میں سے ایک تکمیل دین بھی تھی۔ جس کے فرمایا گیا تھا اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی (المائدہ:۴) اب اس تکمیل میں دو خوبیاں تھی ایک تکمیل ہدایت اور دوسری تکمیل اشاعت ہدایت تکمیل ہدایت کا زمانہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپناپہلا زمانہ تھا اور تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ آپؐ کا دوسرا زمانہ ہے جبکہ آخرین منہم لما