اس وقت خداتعالیٰ اپنے ظہور کا ارادہ فرمایا اور مجھے مبعوث کیا اس لئے مجھے کہا اَنْتَ مِنِّی وَاَنَامِنْکَ ۔
اوراس کے یہی معنے ہیں کہ میراجلال اور میری توحید و عظمت کاظہور تیرے ذریعہ ہوگا چنانچہ وہ نصرتیں اور تائیدیں جواس نے اس سلسلہ کی کی ہیں اورجونشانات ظاہر ہوئے ہیں وہ خداتعالیٰ کی ہستی اس کی توحید اور عظمت کا اظہار کے ذریعے ہیں
یہ امر کوئی ایساامر نہیں کہ مشتبہ یا مشکوک ہو بلکہ تمام مذاہب میں مشترک طور پر پایا جاتا ہے سمجھاجاتاہے یہ وہ وقت ہوتاہے جب اس کی ہستی اورتوحید اور صفات پر ایمان نہیں رہتا اورعملی رنگ میں دنیا دہریہ ہوجاتی ہے اس وقت جس شخص کوخداتعالیٰ اپنی تجلیات کامظہر قرار دیتا ہے وہ اس کی ہستی ، توحید اورجلال کے اظہار کاباعث ٹھہرتا ہے اوروہ اَنَامِنْکَ کامصداق ہوتاہے
اگر کوئی کہے کہ خداتعالیٰ کی کسی ذریعہ کی کیاضرورت ہے ؟ تو ہم کہیں گے کہ یہ سچ ہے اس کوکوئی ضرورت نہیں ہے ۔ مگراس نے اس عالم اسباب میں ایسا ہی پسند فرمایاہے ۔ دیکھو ۔پیاس لگتی ہے یابھوک لگتی ہے مگر یہ پیاس اور بھوک پانی اورکھانے کے بغیرفرد نہیں ہوسکتی ۔ اسی طرح جس قدر قوتیں اورطاقتیں ہیں اوران کے تقاضے ہیں وہ اسی طرح پورے ہوتے ہیں دنیاکی تمدنی زندگی کی اصلاح اور انتظام کے لئے اس نے بادشاہوں اور حکومت کے سلسلہ کاانتظام رکھا ہے جو شریروںکوسزادیتے ہیں اور مخلوق کے حقوق ان کے جان و مال اور آبرو کی حفاظت کرتے۔خداخود اترکر نہیں آتا ۔ حالانکہ یہ سچ ہے کہ وہی حفاظت کرتاہے اورشریروں کی شرارت سے بچاتاہے اورمحفوظ رکھتاہے ۔
اسی طرح روحانی نظام کے لئے بھی اس کا ایساہی قانون ہے سچی پاکیز گی اور طہارت اوروہ ایمان جس سے معرفت ۔بصیرت اوریقین پیداہو ، خداہی کی طرف آتا ہے اوراس کامامور لے کر آتا ہے اور وہ ذریعہ ٹھہرتاہے خدا ے جلال اور عظمت کا۔ اورو ہ اس وقت آتا ہے جب دنیا میں سچی پاکیزگی نہیں رہتی اور خداتعالیٰ سے دوری اوربعد ایسا ہوتاہے کہ گویا خداہے ہی نہیں اورجب دنیا کے ہاتھ میں صرف پوست رہ جاتاہے اور مغز نہیں رہتا تب خداتعالیٰ اپنے کسی بندے کے ذریعہ اپنا ظہور فرماتاہے چونکہ اس زمانہ میں اس نے مجھے بھیجا ہے اس لئے مجھے مخاطب کر کہ فرمایا اَنْتَ مَنِّیْ وَاَنَا مِنْکَ۔