الحکم درج ہے فرمایاکہ
بے شک ان لوگوں پر جومسیح کوزندہ آسمان پر بیٹھاتے ہیں یہ سوال بڑامعقول ہے انسان اپنے اقرار
سے پکڑتاجاتاہے ان مسلمانوں نے خود اقرار کر لیا ہے کہ مسیح زندہ ہے اورآسمان پر بیٹھا ہے اور ایساہی اس کے معجزات خالق طیور ہونابہت سی باتیں ہیں جن سے عیسائیوں کو مدد ملی ہے ہم عیسائیوں کو کیا روئیں ہمارے گھرمیں خود یہ مسلمان اسلام پر چھری چلا رہے ہیں ۔
الہام اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَا مِنْکَ کے معنی
لالہ کاہن چند صاحب مختار عدالت بٹالہ ( جو توحید پسند ہندو ہیں ) نے آپ سے الہام اَنْتَ مِنِّیْ وَاَنَامِنْکَ کی تشریح وتفسیر کے متعلق سوال کیا۔
فرمایا:۔
اس کاپہلا حصہ تو بالکل صاف ہے کہ تو جو ظاہر ہو۔ یہ میرے فضل اور کرم کانتیجہ ہے جس انسان کوخداتعالیٰ مامور کر کے دنیامیں بھیجتاہے اس کواپنی مرضی اور حکم سے مامور کر کے بھیجتا ہے جیسے حکام کابھی یہ دستور ہے اورقاعدہ ہے
اب اس الہام میں جو خداتعالیٰ فرماتاہے اَنامَنْکَ اس کایہ مطلب اور منشاء ہے کہ میری توحید میرا جلال اور میری عزت کا ظہور تیرے ذریعہ سے ہوگا ایک وقت آتا ہے کہ زمین فسق وفجور اورشر و فساد سے بھر جاتی ہے کوگ اسباب پرستی میں ایسے فنا اور منہک ہوتے ہیں کہ گویا خداکانام و نشان بھی نہیں ہوتا ۔
ایسے وقتوں میں خداتعالیٰ اپـنے اظہار کے واسطے ایک بندہ اپنی طرف بھیج دیتا ے ہندؤں نے جواوتار کامسئلا مانا ہے یہ بھی اسی کاہمرنگ ہے گویا خداتعالیٰ ان کامجازی طور پر بولتا ہے ۔
اس زمانہ میں اسباب پرستی اور دنیا پرستی اس طرح پھیل گئی ہے خداتعالیٰ پر بھروسہ اورایمان نہیں رہا اور الہاد کو زور ہے جو کچھ حالت اس وقت زمانہ کی ہورہی ہے اس پر نظر کر کے کہناپڑتا ہے کہ زمانہ بزبان حال پکار رہاہے کہ کوئی خدانہیں ۔
عملی حالت ایسی ہوگئی ہے کہ کھلی بے حیائی اور فسق وفجور بڑ ھ گیا ہے یہ ساری باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ دلوں سے خداتعالیٰ پر ایمان اوراس کی ہیبت اٹھ گئی ہے اور کوئی یقین اس ذات پر نہیں ۔ ورنہ کیا بات ہے کہ اگر انسان کومعلوم ہوجاوے کہ اس سو راخ میں سانپ ہے ۔تووہ کبھی بھی اس میں ہاتھ نہیں ڈالتا پھر یہ بے حیائی اور فسق وفجور۔اتلاف حقوق جوبڑھ گیا ہے کیا اس سے صا ف معلوم نہیں ہوتاکہ خداتعالیٰ پر ایمان نہیں رہا ۔ یا یہ کہوکہ خداگم ہوگیا ہے