اب آپ لوگوں کے وہ پرانے ہتھیار کام نہیں دیتے وہ کند ہو گئے ہیں اور ان سے اسلام کو الٹا ضرر پہنچتا ہے انتیس لاکھ کے قریب مسلمان مرتد ہو چکے ہیں۔ فرمایا: مباحثات کااثر بحیثیت مجموعی دیکھناچاہے فرداً فرداً کچھ پتہ نہیں لگاکرتا۔ منشی نبی بخش صاحب نے ایک عیسائی کاسوال پیش کیاکہ وہ ماجعلنا لبشر من قبلک الخلد ( الانبیاء : ۳۵) سے مسیح کی الوہیت ثابت کرتے ہیں۔ عیسائی لوگ اس آیت سے استدلال کر کے ان لوگوں کے سامنے الوہیت مسیح ثابت کرتے ہیں جس کاان لوگوں سے کچھ جواب بن نہیں آتا ۔عیسائی اس آیت سے مسیح سے علیہ السلام کو بشریت سے الگ کر کے ان کوقائل کرتے ہیں جب وہ زندہ آسمان پر ہیں تو بہر حال الوہیت کے رنگ میںہیں اگر مسیح علیہ السلام بشر ہوتے توفوت ہوگئے ہوتے ۔ فرمایا:۔ یہ سوال توان کابڑامعقول ہے ان مولویوں کوچاہئے کہ اس کاجواب دیں اب دیکھئے کہ مسلمانوںکے دو چارجلسوں میں یہ سوال پیش ہوااور مولوی اس کہ جواب میں ساکت رہیں اورقاصر رہیں توپھر اسلام کی ذریت پر کیااثر پڑسکتا ہے ایسے سوالوں کے بعد اگر مسلمان مرتد نہ ہوں تو کیا کریں ؟ اس کے علاوہ ان لوگوں کے ایسے عقیدے ہیں کہ اگر ان کاعیسائیوں کوپتہ لگ جائے توبحث کرنے کو ڈنکے کی چوٹ بلائیں یہ لوگ تو خطرناک ہیں ان لوگوں نے اگر مسیح ؑکو خدا نہیں بنایا توخدابنانے میں کوئی کثر بھی نہیں چھوڑی ان لوگوں کاتو وہی حال ہے جس طرح کوئی شخص کہے کہ فلاں شخص مرا تو نہیں ۔ہاں مگر اس کی نبض بھی نہیںچلتی سانس لیتاپیٹ بھی پھول گیا ہے حرکت بھی نہیںکرتا غرض ساری علامات مردوں کی ہیں مگر مرانہیں ۔یہی ان لوگوں کاحال ہے کہ مسیح کوخدانہیں کہتے مگر خدائی کی ساری صفات کوان میں جمع کر دیتے ہیں ان عیسائیوں کاہم کیارد کریں ہمارے تو یہ اندر ونی عیسائی ہی امت پر چھری چلارہے ہیں ۔ ۱؎