ایک نو مسلم کو نصیحت
بٹالہ کے سفر کے دوران حضرت اقدس شیخ عبدالرحمان صاحب قادیانی سے ان کے والد صاحب کے حالات دریافت فرماتے رہے اور نصیحت فرمائی کہ
ان کے حق میں دعا کیا کرو ہر طرح اور حتی الوسع والدین کی دلجوئی کرنی چاہئے اور ان کو پہلے سے ہزار چند زیادہ اخلاق اور اپنا پاکیزہ نمونہ دکھا کر اسلام کی صداقت کا قائل کرو۔اخلاقی نمونہ ایسا معجزہ ہے کہ جس کی دوسرے معجزے برابری نہیں کر سکتے سچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجہ کے اخلاق پرہو جاتا ہے اور وہ ایک ممیّز شخص ہوتا ہے ساید خدا تعالیٰ تمہارے ذریعہ ان کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دے۔اسلام والدین کی خدمت س ینہیں روکتا۔دنیوی امور جن سے دین کا حرج نہیں ہوتا ان کی ہر طرح سے پوری فرماں برداری کرنی چاہئے دل و جان سے ان کی خدمت بجالائو۔
بٹالہ کے سفر کے دوران
زندگی کا بھروسہ نہیں
راستہ میں مولوی قطب الدین صاحب سے ملاقات ہوئی۔جو کہ شاہ پور کی طرف ایک مریض کے علاج کے لئے گئے تھے مگر وہ مریض ان کے پہنچنے پر فوت ہو گیا یہ سن کر حضرت اقدس نے فرمایا انسان کا کیا ہے زندگی کا بھروسہ نہیں جہاں تک ہو سکے آنے والے سفر کی تیاریوں میں مصروف ہونا چاہئے ساری بیمریوں کا علاج ہے مگر یہ موت ایسی بیماری ہے کہ جس کا کوئی علاج نہیں۔؎ٰ
بٹالہ پہنچ کر اس باغ میں جو کچہری کے سامنے ہے دیرا کیا اور حوائج ضروریہ کے بعد کاغذ طلب کیا۔فرمایا کہ راہ میں چند شعر کہے ہیں ان کو لکھ لوں چنانچہ مفتی صاحب نے اپنی نوٹ بک پیس کی اور آپ لکھنے لگے۔کھانا ساتھ ہی تھا حکم دیا کہ پہلے کھانا کھا لیا جاوے
منشی محمد یوسف صاحب اپیل نویس مردان سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ
آپ ایک دینی جہاد کر رہے ہیں اﷲ تعالیٰ اس کی جزادے گا۔ ۲؎