۶؍نومبر ۱۹۰۲ء؁ بورز پنچشنبہ بعد نماز مغرب حضرت اقدس ؑشہ نشین پر جلوہ گر ہوئے فرمایا :- آج میں نے کام میں بہت توجہ کی۔سر میں درد تھا ریزش بھی ہے اور گلا بھی پکا ہوا ہے جیسے کسی نے چیرا ہوا ہو۔اور مریض بھی بہت آئے اگر چہ حکیم نورالدین صاحب کو علاج کے لئے مقرر کیا ہوا ہے مگر بعض اپنے اعتقاد کے خیال سے مجھ سے ہی علاج کراتے ہیں۔ دنیا کی بے ثباتی پھر دنیا کی بے ثباتی پر فرمایا کہ چند روزہ زندگی ہے۔اس کا نظارہ کیا ہے۔کون ہے جو اپنے خویش واقارب کی موت کا نظارہ نہیں دیکھتا۔ اﷲ تعالیٰ نے دنیا کو بے ثبات کر رکھا ہے جو آیا ہے اس کے اوپر جانا سوار ہے ہزار دو ہزار برس کی عمر ہوتی تب بھی کیا ہوتا۔مگر انسان کی عمر تو چیل اور گدھ جتنی بھی نہیں ہے اگریہ مضمون دل کے اندر چلا جائے تو اس کا اثر ہوتا ہے جیسا کہ ابراہیم ادھم اور شاہ شجاع وغیرہ پر ایسا اثر پڑا کہ اپنے اپنے تختوں سے نیچے اتر پڑے۔؎ٰ ۷؍نومبر ۱۹۰۲ء؁ بٹالہ کا سفر بعد نماز فجر حضرت اقدس ؑبٹالہ جانے کے لئے تیار ہوئے ہر ایک شخص حضور کے ہمراہ جاتے کے لئے بے قرار تھا۔حصرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ:- چونکہ آج ہی واپس آجانا ہے اس لئے کوئی ضروری نہیں کہ سب لوگ ساتھ جاویں۔ آپ نے ایک اور طالب علم کو جو پاپیادہ ہمراہ تھا فرمایا:- تم کو تو یونہی تکلیف ہوئی تھوڑی دیر شاید ٹھہرنا ہو گا سھر کی کوفت میں تم خواہ مخواہ ہمارے شریک ہو گئے۔ ۲؎