اول اخباروں نے کیسی مخالفت کی کہ گویا ہم نے گورنمنٹ کی راہ میں پتھر ڈال دیئے ہیں۔لیکن سول ملٹری گزٹ کی تعریف کی کہ اس نے کوئی چنداں مخالفت ہماری اس امر میں نہیں کی اور نہ بے ادبی کا طریق اختیار کیا۔معلوم ہوتا ہے یہ لوگ گورنمٹ کے بڑے مزاج دان ہوتے ہیں گورنمنٹ کے لئے رعایا مثل بچوں کے ہے ایک ماں کی طرح حد انسانیت تک خبر گیری ضروری ہے اگر یہ بات ثابت ہو گئے کہ ٹیکہ سے کوئی مفید تجربہ حاصل نہیں ہوا تو پھر طاعون کا کوئی علاج نہیں ئخر نظر آسمان کی طرف ہونی چاہئے خدا نے قوموں کو سزا دینے کے لئے اسے رکھا ہے توریت میں بھی اس کا ذکر ہے قرآن مجید میں بھی ہے بلکہ قرآن مجید میں تو چوہوں کا بھی ذکر ہے خدا کی عجیب قدرتوں کے دن ہیں جو قسمت والے ہوں گے وہ خدا پر ایمان لاویں گے۔ صحابہؓ کا زُہد پھر عبد اﷲ عرب صاحب اپنی تصنیف رد شیعہ ہمیں سناتے رہے ایک مقام پر حصرت اقدس نے فرمایا کہ:- صحابہ کرامؓ کو جو برابر بھی دنیا کی خواہش نہ تھی ان کا مدعا یہ تھا کہ خوں بہا کر بھی رسول اﷲ کے پیرو بن جاویں۔ پھر ایک مقام پر فرمایا کہ سر الشہادتین (کتاب) میں میں نے ایک دفعہ پڑھا کہجب مسلم (امام حسین؎ٰ) دروازہ کے اندر داخل ہوئے تو انہوں نے یہ آیت پڑھی ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیرالفاتحین (الاعراف:۹۰) اور اسی وقت ان کا سر کاٹا گیا یہ بات مجھ کو بڑی بے محل معلوم ہوئی۔ پھر عبد ال عرب صاحب اپنے تقیہ کے حالات سناتے رہے پھر انہوں نے خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا جس نے اس گند سے ان کو نجات دی۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ: خدا تعالیٰ کا بڑا فضل ہے جب تک انسان کی آنکھ نہ کھلے انسان کیا کر سکتا ہے۔ ۲؎