بہتر اور دقیق معرفت کا نکتہ ہے جس کو ہر ایک شخص نہیں سمجھ سکتا کہ انبیاء اور اہل اللہ کیوں پیشگوئیوں کے پورا ہونے کی ایک غیر معمولی رغبت اور تحریک اپنے دلوں میں رکھتے ہیں۔ جس قدر انبیاء علیہم السلام گذرے ہیں یا اہل اللہ ہوئے ہیں ان کو فطرۃً رغبت دی جاتی ہے کہ وہ خدا تعالی کے نشانوں کو پورا کرنے کے لئے ہمہ تن تیار ہوتے ہیں مسیح نے اپنی جگہ داؤدی تخت کی بحالی والی پیش گوئی کے لئے کس قدر سعی اور کوشش کی ۔کہ اپنے شاگردوں کو یہاں تک حکم دیا کہ جس کے پاس تلواریں اور ہتھیار نہ ہوں وہ اپنے کپڑے بیچ کر ہتھیار خریدے۔ اب اگر پیشگوئی کو پورا کرنے کی فطری خواہش اور آرزو نہ تھی جو انبیاء علیہم السلام میں ہوتی ہے تو کوئی ہم کو بتائے کہ ایسا کیوں کیا گیا ؟اور ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں اگر یہ طبعی جوش نہ تھا توآپ کیوں حدیبیہ کی طرف روانہ ہوئے جب کہ کوئی میعاد اور وقت بتایا نہیں گیا تھا ؟ بات یہی ہے کہ یہ گو وہ خدا تعالیٰ کے نشانوں کی حرمت اور عزت کرنا ہے اور چونکہ ان نشانات کے پورا ہونے پر معرفت اور یقین میں ترقی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا اظہار ہوتا ہے وہ چاہتے ہیں کہ پورے ہوں۔ اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نشان پورا ہوتا تو سجدہ کیا کرتے تھے۔جب تک دل دھوئے نہ جاویں اور ایمان حجاب اور زنگ کی تہوں سے صاف نہ کیا جاوے سچا اسلام اورسچی توحید جو مدار نجات ہے حاصل نہیں ہو سکتی۔ اور دل کے دھونے اور حجب ظلمانیہ کے دور کرنے کا آلہ یہی خدا تعالیٰ کے نشانات ہیں جن سے خود خدا تعالیٰ کی ہستی اور نبوت پر ایمان پیدا ہوتا ہے اور جب تک سچا ایمان نہ ہو جو کچھ کرتا ہے وہ صرف رسوم اور ظاہرداری کے طور پر کرتا ہے۔ پس جب خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ بات تھی تو میرا نور قلب کب اس کے خلاف کرنے کی رائے دے سکتا تھا اس لئے میں نے چاہا کہ یہ ہونا چاہئیے تاکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی پوری ہو ممکن تھا کہ ایسے واقعات پیش نہ آتے لیکن جب ایسے امو رپیش آگئے کہ جن کی مصروفیت از بس ضروری تھی اور توجہ ٹھیک طور پر چاہئے تھی تو اس پیشگوئی کے پورا ہونے کا وقت آگیا اور وہ پوری ہوئی اسی طرح پر جیسے خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا تھا والحمد للہ علی ذلک۔ میرا ان نمازوں کو جمع کرنا جیسا کہ میں کہہ چکاہوں اللہ تعالیٰ کے اشارہ