مباحثہ مُدّ کسی فتح کی بنیاد نظر آتا ہے محمد یوسف صاحب اپیل نویس نے عرض کیا کہ حضور موضع مد کے مباحثہ میں ایک اعتراض یہ بھی کیا گیا تھا کہ مرزا صاحب تمہاری آنکھیں کیوں نہیں اچھی کر دیتے حضرت اقدس نے فرمایا کہ :- جواب دینا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اندھا تھا جیسے قرآن مجید میں لکھا ہے عبس وتولی۔ان جاء ہ الاعمی۔ (عبس : ۲-۳) وہ کیوں نہ اچھا ہوا حالانکہ آپ تو افضل الرسل تھے اور بھی اندھے تھے ایک دفعہ سب نے کہا کہ یا حضرت ہمیں جماعت میں شامل ہونے کی بہت تکلیف ہوتی ہے آپ نے حکم دیا کہ جہانتک اذان کی آواز پہنچتی ہے وہاں تک کے لوگوں کو ضرور آنا چاہئے۔ فرمایا- شریر آدمیوں کا کام ہے کہ آنکھ‘کان‘ٹانگ وغیرہ کاٹ کر پھر کلام کو ایک مسخ شدہ صورت میں پیش کرتے ہیں یہ مباحثہ بھی ہمارے لئے ایک فتح حدیبیہ کی صلح کی طرح کسی فتح کی بنیاد ہی نظر آتا ہے۔ جماعت کا اخلاص پھر فرمایا کہ: ہماری جماعت جان و مال سے قربان ہے اگر ہمیں ایک لاکھ کی ضرورت ہو تو وہ مہیا کر سکتے ہیں اول بار عوام الناس نے علمی باتوں کو نہ سمجھا اس لئے اب اﷲ تعالیٰ نشانوں سے سمجھاتا ہے۔ مولویوں کی حالت زمانہ کے مولویوں کی حالت پر فرمایا کہ: ایسے مولویوں کے ہوتے ہوئے دین کے استیصال کے پادریوں کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ نبی سے اجتہاد میں غلطی ہو سکتی ہے پھر اعتراضون پر فرمایا کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ ہم پر وہ تیکس لگاتے ہیں جو اول انبیاء کو معاف کرتے ہیں ان سے بھی