ایک لطیف نکتہ
اہل عرب میں چونکہ ایک ہزار سے آگے شمار نہیں ہے حضر ت اقدس نے اس پر فرمایا کہ
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا میلان دنیا کی طرف نہ تھا ورنہ دوسری دنیا دار قوموں کی طرف لاکھوں کروڑوں تک گنتی وہ بھی رکھتے۔
وہ رسالہ سن کر حضرت اکدس نے تعریف کی کہ
عمدہ لکھا ہے اور معقوم جواب دئیے ہیں۔؎ٰ
۵؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز چہار شنبہ
(بوقت سیر)
خاتمہ بالخیر چاہیئے
حضرت اقدس حسب معمول سیر کے لئے تشریف لائے۔ئتے ہی قاضی میر حسین صاحب مدرس عربی مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کے والد ماجد مسمی غلام شاہ صاح تاجر اسپاں سے ملاقات ہوئی انہوں نے حصرت اقدس کے دست مبارک کو بوسہ دیا اور نذر پیش کی حضرت اقدس ان کے حالات دریافت فرماتے رہے معلوم ہوا کہ آپ کی اسی سال سے زیادہ عمر ہے انہوں نے درخواست کی میرے خاتمہ بالخیر کی دعا فرمائی جاوے حضرت اقدس نے فرمایا کہ
بس یہی بڑی بات ہے کہ خاتمہ بالخیر ہو کسی نے نوحؑ سے دریافت کیا تھا کہ آپ تو قریب ایک ہزار سال کے دنیا میں رہ کے آئے ہیں بتلائیے کیا کچھ دیکھا۔نوحؑ نے جواب دیا کہ یہ حال معلوم ہوا ہے کہ جیسے ایک دروازے سے ئئے اور دوسرے سے چلے گئے تو عمر کا کیا ہے لمبی ہوئی تو کیا تھوڑی ہوئی تو کیا خاتمہ بالخیر چاہئے۔
پھر ایک بڑکے درخت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ
ہم سے تو یہ درخت ہی اچھا ہے ہم چھوٹے ہوتے تھے تو اس کے تلے ہم کھیلا کرتے تھے یہ اسی طرح ہے اور ہم بڈھے ہو گئے ہیں یہ سال بہ سال پھل بھی دیتا ہے۔