الرشاد رکھاحضرت اقدس کوسناتے رہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ ساتھ ساتھ اردو ترجمہ بھی کرتے جائو تاکہ تم کومشق ہو مگر عرب صاحب کوجرات نہ ہوئی کہ اتنی مجلس میںترجمہ ٹوٹے پھوٹے اردو میں سنادیں اس رسالہ میں ایک مقام پر حضرت اقدس نے فرمایاکہ
مسیح کے بارہ میں یہود کاموقف
مجھے اس جگہ ان کے الفاظ سے یہ تحریک ہوئی ہے کہ یہود لوگ حضرت مسیح علیہ السّلام کودو وجہ سے ملعون ٹھہراتے تھے ایک ان کوولد الزناکہہ کر ا۔ دوسرامصلوب ہونے کابھی ذَبّ کرتا۔ جسم کے ساتھ آسمان پر جاناتوایک الگ تھلگ امر ہے اول ذَبّ دلالت کرتاہے کہ دوسرابھی ذَبّ ہو
اولاد الشیطان
پھریہ بات ہوئی کہ اہل شیعہ کا یہ اعتقاد ہے کہ ولدالزناکی توبہ ہرگزقبول نہیں ہوتی اگرچہ وہ حسین ؑ اوربارہ اماموںکی بھی محبت رکھتاہو۔
حضرت قدس نے فرمایاکہ
توریت میں بھی ایسے ہی لکھاہے اوراس لئے وہ مسیح کوملعون کہتے تھے اس بات کی اصل قرآن شریف میں بھی ہے کہ اخداتعالیٰ نے اس میں تخصیص کی ہے ایک اولاد الرحمان اورایک اولاد الشیطان۔ کیونکہ جب شیطان نطفہ میں شریک ہوگیا توپھر اس کے قویٰ میں یہ بات جزو کہ آگئی ۔
ایک مقام پر ہے
بعدذلک زنیم (القلم: ۱۴)
یعنی یہ ولدالزناہے اورتجربہ بتلاتاہے کہ ولدالزناشرارت سے بازنہیں آیا کرتے ۔
وَمَاقَتَلُوْہُ
پھراس رسالہ میں
ماقتلوہ (النساء:۱۵۸)
کہ لفظ پر حضرت اقدس کویہ تحریک ہوئی کہ
ماقتلوہ
سوال ہوتاہے کہ یہودکیوں قتل کرتے تھے ان کی کیاغرض تھی جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا
بل رفعہ اللہ الیہ ( النساء : ۱۵۹)
یعنی قتلنا سے ان کی مراد لعنا تھی۔