چھوڑ چھاڑکر آنحضر ت ﷺپر سب وشتم شروع کر دیتے ہیں اسی طرح یہ لوگ ہمارے سلسلہ میںکرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ بھی تماشہ دیکھ رہاہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میںبھی کفار کیاکچھ نہ کرتے تھے اگر خداتعالیٰ چاہتاتواسی وقت کفارکوتباہ کردیتامگر اس نے ایسانہ کیا کچھ عرصہ ان کی ناز برداری کرتا رہا۔
ایک پیشگوئی کاپوراہونا
پھرسید سرور شاہ صاحب سے حضرت اقدس کچھ گفتگوان کے سفر امر تسر کے متعلق کرتے رہے ایک مقام پر فرمایا کہ
ہم نے مالی انعامات دے دے کر ان لوگوں کو اپنے مقابلہ میں بلایامگر نہ آئے مگرہم دینے سے تھکے نہیں ابھی اور دیں گے اور اگروہ اسے قبول نہ کریں گے تو وہ اپنے ہاتھوں سے ایک اور پیشگوئی ہمارے حق میں پوری کر دیں گے وہ یہ کہ حدیث شریف میں ہے کہ مسیح موعود مال سے گااوروہ لوگ نہ لیں گے تو اگر انکار کرتے ہیں تو اپنے ہاتھ سے اس پیشگوئی کو پوراکرتے ہیں۔
مذہبی گفتگوکاطریق
فرمایا:۔
گفتگو ئیں ایسے طریق پر ہونے چاہئیںجہاں رؤساء بھی جلسہ میں ہوں اورتہذیب اورنر م زبانی سے ہر ایکبات کریں کیونکہ دشمن جب جانتاہے ہے کہ محاصرہ میں آگیا تو وہ گالی اوردرشت زبانی سے پیچھاچھڑاناچاہتاہے طالب حق بن کر ہر ایک کو بات کرنی چاہئیے اوریہ امر سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے
کتب اللہ لاغلبین اناو رسلی (المجادلہ : ۲۲)
اگر ہم حق پر نہیں تو ہم ایک غالب نہ ہوں گے ہم نے ان کو کئی بار لکھا ہے کہ سب متفق ہوجائیں کوئی عیب نہیں ہے ۔ ہم ہماری طرف سے ان کواجازت ہے ان تمات مولویوں میںسے بہت ایسے ہیں کہ عربی لکھتے ہیں بلکہ اشعار بھی کہتے ہیں مگر ہمارے مقابل پر خداتعالیٰ ان کی زبان بندکر دیتاہے اوران کوایساامر پیش آتاہے کہ چپ رہ جاتے ہیں ۔
مغرب کی نماز کے بعد حضرت اقدس حسب دستورشہ نشین پر جلوہ گر ہوئے سیدعبداللہ عرب صاحب نے ایک رسالہ ایک شیعہ علی حائری کے ر دمیں عربی زبان میں لکھا تھاجس کانام سبیل