مقابلہ کہ تحریروں میں مدددیتا رہا کہ اکثراوقات حضرت اقدس بیمار تھے اور میعاد و مقابلہ نزدیک آگئی تو پھر اسی حالت میں بڑی سختیوں سے راتوں کو بیٹھ بیٹھ کر کتابیں لکھیں حضور نے فرمایا کہ
میں تو ایک حرف بھی نہیں لکھ سکتا اگر خداتعالیٰ کی طاقت میرے ساتھ نہ ہو۔ بار بار میںلکھتے لکھتے دیکھا ہے ایک خداکی روح ہے جو تیررہی ہے قلم تھک جایاکرتی ہے مگر اندر جوش نہیں تھکتا طبیعت محسوس کیا کرتی ہے کہ ایک ایک حرف خداتعالیٰ کی طرف سے آتا ہے
ڈوئی کاذکر
پھر ڈوئی کی کسی بات پر فرمایا
اس کے وجود سے شیطان کاوجود ثابت ہوتاہے وہ بھی انسان کواسی طرح فریفتہ کرتاہے ۔ ۱؎
۴؍نومبر ۱۹۰۲ ء بروزسہ شنبہ
(بوقت سیر)
علاقہ جہلم سے دو شخص بہت ضعیف العمر حضرت اقدس کی زیارت کے لیے تشریف لائے ہوئے تھے بوجہ ضعیف العمر کے وہ چل نہیںسکتے تھے حضرت اقدس ان کی خاطر ٹھہر گئے اوران کے حالات دریافت فرماتے رہے۔
آیت مَاذَآاُجَبْتُمْ قَا لُوْلَاعِلْمَ لَنَا کی تفسیر
پھر حضور مشرق کی طرف سیر کو چلے سید سرور شاہ صاحب نے حضرت اقدس سے سوال کیاکہ قرآن شریف معلوم ہوتاہے کہ قیامت کے دن ہر ایک رسول اپنی امت کاحالات سے لاعلمی ظاہر کرے گا جیسے قرآن شریف ہے
یوم یجمع اللہ الرسل فیقول ماذاجبتم قالو لاعلم لنا (المائدہ : ۱۱۰)
تو پھراس آیت کے مفہوم کے مطابق اگر مسیح بھی اپنی امت کے حالات سے لاعلمی ظاہر کریں اگر چہ وہ زمانہ میں پھر چالیس برس ان لوگوں میں گذار بھی جائیں توآیت
فلما تو فیتنی
کے لحاظ سے وہ اللہ تعالیٰ کے رو برو کاذب کیسے ٹھہر سکتے ہیں ؟حصرت اقدس نے فرمایاکہ
یہ لاعلمی انبیاء کی ان کی اس امت کے بارے میں ہوتی ہے جو وہ ان کی وفات کے بعد ہوتی