ثابت نہ کریں تب تک ان کو غلطی نکالنے کاحق نہیں ہے اعتراض کرنے کے لئے ضروری ہے کے اول زبان پر پورااحاطہ ہواگر ان لوگوں کوعربی زبان کاعلم ہے تو ہم جودس سال سے رسالے لکھ کرمقابلہ کے لئے بلارہے ہیں انہوں نے آج تک دس سطریں ہی دکھائی ہوتیں۔ورنہ جہالت سے تکذب کرنے سے کیابنتاہے یہ خداتعالیٰ کی قدرت ہے کہ یہ لوگ بالمقابل لکھ نہیں سکتے ورنہ املا کرناکیامشکل امر ہے مگر ہمارے مقابلہ میں خداتعالیٰ نے ان کی زبان کو بندکردیا ہے ۔
دل میں بات بٹھانے کے واسطے بھی ایک ڈھب ہوتاہے کیونکہ اب تلوار کی لڑائی توہے نہیں ۔ زبانوں کی ہے اس لئے زبان کی تلوار جب مارے تو اوچھی نہ مارے ۔ایسی خوب مارے کہ دو ٹکرے ہوجائیں میں نے بار ہاارادہ کیا ہے کہ یہ لوگ کبھی مقابلہ پر نہیں آئیں گے کیونکہ کہ ان کے دلوں پررعب پڑگیاہے تواب جب کہ شکار ہمارے نزدیک نہیں آتاتو ہمیں چاہئیے کہ دو رسے بذریعہ بندوق کہ نشانہ بنائیں ۔
مباحثہ مُدّمیں ہماری فتح ہوئی
ظہر کے وقت حضرت اقدس تشریف لائے اور تھوڑی دیر مجلس فرمائی مُدّکہ مباحثہ کاذکر ہوتارہافرمایاکہ :۔
درحقیقت تو ہم نے فتح پالی ہے صرف اتنی بات ہیکہ وہ دیہات کے لوگ تھے ان کوان باریک باتوں کی سمجھ نہیں آئی مجھے خشبو آتی ہے کہ آخر کار فتح ہماری ہے دسمبر کہ آخر تک جو نشان ظاہر ہونے والے ہین شاید یہ بھی ان میں سے ایک عظیم الشان نشان ہوجائے یہ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے جیساکہ فرمایا
والعاقبۃللمتقین (القصص : ۷۴)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تیرہ برس تک مکروہات ہی پہنچتے رہے ۔
عصر کی نماز کے لئے تشریف لائے تو اسوقت بھی مباحثہ مد کے متعلق ہی ذکر فرماتے رہے حضور نے فرمایاکہ
خداتعالیٰ کے بر گزیدوں کی یہ عجیب حالت ہوتی ہے جب ایک بات کی طرف توجہ ہوجائے تو پھر رات دن اسی کی توجہ رہتی ہے گویا کہ بالکل اس میںمستغرق ہیں اوردنیا مافیہماکی خبر نہیں ۔