۳؍نومبر ۱۹۰۲ء بورز دوشنبہ
(بوقت سیر)
مباحثات کا طریق
حضرت اقدس حسب معمول سیر کے لئے تشریف لائے اور سیر کے دوران اس بات کا تذکرہ فرمایا کہ
مباحثات میں ہمیشہ یہ امر مد نظر رکھنا چاہئے کہ فریف مخالف اپنی روباہ بازی سے سامعین کو دھوکا نہ دے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ سامعین کے باطل عقائد کے موافق یہ لوگ ہماری طرف سے ایسی بتیں ان کو سناتے ہیں کہ جن سے وہ لوگ معاً بھڑک جاویں اور برانکیختہ ہو جاویں ایسی صورت میں پھر خواہ ان کے آگے کچھ ہی کہو وہ لوگ ایک نہیں سنتے جیسے مولوی صاحب نے کل اپنا ذکر سنایا تھا۔
پھر طریق بحث کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ:-
بلاغت کا کمال یہ بیھ ہے کہ ایک بات دوسرے کے دل تک پہنچائی جائے ورنہ اگر کوئی کلام اس قابل ہو کہ آب زر سے لکھا جائے مگر متکلم اسے سمجھ نہیں سکتا تو پھر وہ فصیح نہیں کہلائے گا اس لئے کلام کرنے والے کو یہ تمام پہلو مد نظر رکھنے چاہئیں۔
Noshen -6-04-05
مکذّبوںکے ذریعہ ہی حقائق و معارف کھلتے ہیں
فرمایا : ۔
کافروں کے لئیددرمیانی خوشی ہوتی ہے اور انجام خوشی متقیوںکے لئے ہوتی ہے خداتعالیٰ اگر چاہے تو ایک دم میںسب کاخاتمہ کرسکتا ہے مگروہ رونق چاہتاہے جب تک مکذب نہ ہوں توپھرمصدق کی حقیقت کیامعلو م ہوسکتی ہے مکذبوں کے ذریعہ ہی حقائق ہی ومعارف کھلتے ہیں اور خداتعالیٰ کی محبت اور نصرت کاپتہ ملتاہے اگر ایک شخص کے دل میںاگر ماںکی محبت ہے تواس کاکسی کو علم نہ ہوگامگر جب کوئی اسے ماں کی گالی دے گاتوجھٹاسے غصہ آجائے گااور معلوم ہوجائے گاکہ مان کی محبت اس کے دل میںہے ۔
ایک عِلمی مُعجزہ
فرمایا :۔
ان ہمارے مخالفوںکوغلطیاںنکالنے کو کوئی حق نہیں پنہچتاجب تک وہ اپنا منصب عربی دانی کا