مضامین قلمبند کرنے میں ہمیشہ محتاط رہا کریں ایسا نہ ہو کہ غلطی سے کوئی بات غلط پیرایہ میں درج ہو جاوے یا کسی الہام کے الفاظ غلط شائع ہوں تو اس سے معترض لوگ دلیل پکڑیں اس لئے مناست معلوم ہوتا ہے کہ ایسے مضامین مولوی محمد علی صاحب ایم اے کو دکھا لیا کریں اس میں آپ کو بھی فائدہ ہے اور تمام لوگ بھی غلطیوں سے بچتے ہیں۔ مباحثہ مُدّ نماز مغرب کے بعد حسب دستور جلوس فرماکر مباحثہ موضع مد کے حسن وقبح پر تذکرہ فرمایا یہ مولوی لوگ عوام کو بھڑکانے کے واسطے عجیب عجیب حیلے گھڑتے ہیں اور حک رسی سے ان کو کوئی کام نہیں ہوتا۔ فرمایا کہ ولد الزنا میں حیا کا مادہ نہیں ہوتا اسی لئے خدا تعالیٰ نے نکاح کی بہت تاکید فرمائی ہے۔؎ٰ ۲؍نومبر ۱۹۰۲ء؁ صبح کی سیر عربی نویسی میں مقابلہ اس امر کا تذکرہ تھا کہ بعض نادان ملاں جب ہر طرح مقابلہ سے عاجز آجاتے ہیں اور ان پر اتمام حجت کے لئے کہا جاتا ہے کہ فصیح بلیغ عربی نویسی میں مقابلہ کر لو تو یہ کہہ کر پیچھا چھوڑاتے ہیں کہ ان کتابوں میںغلطیاںہیں حضور نے فرمایا کہ غلطیاں نکالنے کا جو دعویٰ کرتے ہیں اس میں تویہ امر بجائے خود تنقیح طلب ہے کہ جو غلطی انہوں نے نکالی ہے خدو ان کی اپنی ہی غلطی تو نہیں مولوی محمد حسین صاحب نے جب عجبت لامری پر اعتراض کیا تھا کہ صلہ لام نہیں بلکہ من آتا ہے تو اسے کیسا شرمندہ ہونا پڑا بالمقابل لکھ کر تو بتائیں۔دعوت تو بالمقابل لکھنے کی ہے نہ غلطیاں نکالنے کی اور پھر ایسی حالت میں یہ بہانہ کب چل سکتا ہے جب نکالی ہوئی غلطیوں میں خود ان کی ہی غلطیاں ہو۔ ۲؎