ایسا فضل کیا ہے ایک بھی تم میں سے ایسا نہیں جس نے اپنی آنکھوں سے کوئی نہ کوئی نشان نہ دیکھا ہو کیا کوئی ہے جو کہہ سکے کہ میں نے کوئی نشان نہیں دیکھا ایک بھی نہیں پھر ایسی بصیرت اور معرفت بخشنے والے نشانوں کے بعد مجھ پر حسن ظن ہی نہیں رہا بلکہ میری سچائی اور خدا کی طرف سے مامور ہو کر آنے پر تم علی وجہ البصیرۃ گواہ ہو اور تم پر حجت پوری ہو چکی ہے۔ پھر وہ بڑا ہی بد قسمت اور ناد ان ۔جواتنے نشانوںکے بعد اس پیشگوئی کے پوراہونے پر ابتلاء میںپڑے جو اس کے ازد یاد ایمان کا موجب اور باعث ہونی چاہئیے جوکے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھاکے آنے والے موعو دکایہ بھی ایک نشان ہے کے اس کے لیے نمازجمع کی جائے ۔پس تمھیںخداکاشکر گزار ہونا چاہئے کے یہ نشان بھی پوراہوتاہواتم نے دیکھ لیا۔اگر کوئی یہ کہے کے یہ حدیث موضو ع تومیںنے پہلے اسکے بابت ایک جواب یہ دیا ہے کہ محدثین نے خود تسلیم کر لیاکہ اہل کشف اور مامور تنقید احادیث میںاُن کے اصولوںکا محتاج اور پابند نہیںہوتے ۔توپھرجبکہ خداتعالیٰ نے مجھ پراس حدیث کی صحت کوظاہر کر دیا ہے تواس پرزور دیناتقویٰ کے خلاف ہے پھر میںیہ بھی کہتاہوںکہ محدثین خود ہی مانتے ہیںاور حدیث میںسونے کے کنگن پہننے کی سخت ممانعت ہے مگر وہ کیا با ت تھی کہ حضرت عمر نے ایک صحابی کو سونے کے کنگن پہنادئیے۔چنانچہ ا س صحابی نے بھی انکار کیا ۔مگر وہ حضرت عمر نے اُسے پہناکر ہی چھوڑے ۔کیا وہ اُس حرمت پر آگاہ نہ تھے ؟تھے اور ضرور تھے مگر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے پورا ہونے پر ہزاروں حدیثوںکو قر بان کرنے کوتیار تھے ۔اب غور کا مقام ہے کے جب ایک پیشگوئی کے پوراہونے پر حرمت کا جو ازگرا دیا ۔توبلامطرولاعذروالی بات پر انکار کیوں؟ احادیث میںتو یہانتک آیا ہے کے اپنے خواب کو بھی سچاّکرنے کی کوشش کرو چہ جائیکہ نبی کریم کی پیشگوئی جس شخص کو ایسا مو قع ملے تو اوروہ عمل نہ کرے اور اس کوپورا کرنے کے لیے تیار نہ ہو ۔وہ دشمن اسلام ہے اور رسول اللہ صلی اللہ وسلم کو معاذاللہ جھوٹاٹھہراناچاہتا ہے اورآپکے مخالفوںکواعتراض کا موقع دینا چاہتا ہے۔ صحابہؓ کا مذہب یہ تھا کہ وہ آنحضرت ﷺکی پیشگوئیوںکے پوراہونے پر اپنی معرفت اور ایما ن میں ترقی د یکھتے تھے اور وہ اس قد ر عاشق تھے کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سفر کو جاتے ا ور پیشگوئی کے طور پر کہہ دیتے کہ فلاں منزل پر نماز جمع کریں گے اور ان کو موقعہ مل جاتا تو وہ خواہ کچھ ہی ہوتا ضرور جمع کر لیتے۔ اور خود آنحضرت کی طرف ہی دیکھو کہ آپ ؐ پیشگوئیوں کے پورا ہونے کے کس قدر مشتاق تھے۔ ہم کو کوئی بتائے کہ آپؑ حدیبیہ کی طرف کیوں گئے کیا کوئی وقت ان کو بتایا گیا تھا اور کسی میعاد کی اطلاع دی گئی تھی پھر کیا بات تھی؟ یہی وجہ تھی کہ آپؐ چاہتے تھے کہ وہ خدا تعالیٰ کی پیشگوئی پوری ہو جائے یہ ایک باریک