وہاں تو یہ لکھا ہوا ہے کہ بشرطیکہ حک کی طرف رجوع نہ کرے یہ تو نہیں لکھا کہ بشرطیکہ مسلمان ہو جاوے اس سے پہلے وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دجال لکھ چکا تھا اور یہی وجہ مباحثہ کی تھی پھر جب میں نے پیشگوئی سنائی تو اس نے اسی وقت کانوں پر ہاتھ دھرے اور کہا کہ توبہ توبہ میں تو دجال نہیں کہتا۔
عذابوں کے نزول کی وجہ
یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ صرف عیسائی ہونا یا بت پرست ہونا اس امر کا موجب نہیں ہوتا کہ دنیا میں عذاب آوے ایسے عذابوں کے لئے تو قیامت کا دن مقرر ہے عذاب ہمیشہ شوخیوں پر آتا ہے اگر ابو جہل وغیرہ شرارتیں نہ کرتے تو عذاب نازل نہ ہوتا۔نرا باطل مذہب پر پابند ہونے پر نہ کوئی عذاب آتا ہے نہ کوئی پیشگوئی۔ہمیشہ زیادہ شوخیوں پر پیشگوئیاں ہوتی ہیں یہود کو مغضوب علیھم اسی لئے کہا کہ انہوں نے شوخیاں کیں گستاخیاں کیں اور ان پر غضب ورد ہوئے لیکن ضالین کو مغضوب علیھم نہ کہا حالانکہ آخرت میں تو عذاب یہود کو بھی ہوتا ہے اور نصاریٰ کو بھی۔مگر چونکہ انہوں نے شوخی نہ کی۔اس لئے دنیا میں ان پر غضب نازل نہیں ہوا انسان کیسے ہی بت پرست یا انسان پرست کیوں نہ ہو مگر جب تک شرارت نہ کرے عذاب نہیں آتا اگر ان باتوں پر بھی عذاب دنیا ہی میں آجائے تو پھر قیامت کو کیا ہوگا یہودیوں پر عذاب اسی لئے آئے کہ انہوں نے پیغمبروں کو دکھ دیئے ان کے قتل کے منصوبے کئے ان کی گستاخیاں کیں۔کافروں کے لئے اصل زنداں تو قیامت ہی ہے اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر دنیا میں کیوں عذاب آتا ہے تو جواب یہی ہے کہ شوخیوں کی وجہ سے آتا ہے۔
فرمایا-
عوام الناس سے ہمیشہ موٹی موٹی باتیں کرنی چاہئیں خدا تعالیٰ نے جو معجزات نبوت کی جزورکھے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عوام فائدہ اٹھائیں کیونکہ خواص کے لئے معجزات کی ضرورت نہیں ہوتی ان کے لئے تو حقائق اور معارف ہی کافی ہیں عوام کو چونکہ یہ معرفت نہیں ہوتی اس لئے ان کے خوش کرنے کو معجزات رکھے گئے ہیں۔
مرکزی اخبارات کو محتاط رہنے کی ہدایت
نماز عصر کے بعد حضرت اقدس نے الحکم اور البدر کے ایڈھیٹروں کو بلا کرتا کید فرمائی کہ وہ