وعیدی پیشگوئی ٹل سکتی ہے یونس ؑ نبی کی پیشگوئی موجود تھی اس میں کوئی شرط بھی نہ تھی اور درمنثور میں بھی حدیث ہے کہ یونسؑ نے کہا لن ارجع کذابا یعنی میں جھوٹا کہلا کر واپس نہ جائوں گا۔دیکھو۔اس میں کوئی شرط نہ تھی وعید میں خدا تعالیٰ کو حق لازم نہیں آتا کہ ضرور عذاب نازل کرے۔ دیکھا جاتا ہے کہ جب بلا آتی ہے تو صدقہ خیرات کرنے سے ٹل جاتی ہے صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ ایسی بلا کا قبل ازوقت بیان نہیں ہوتا نہ اس کی کوئی پیشگوئی ہوتی ہے اور پیشگوئی میں بلا کا قبل ازوقت بیان کر دیا جاتا ہے بہر حال وہ بیھ خدا تعالیٰ کے علم میں تو قبل ازوقت ہی ہوتی ہے قرآن شریف میں بار بار ذکر ہے کہ ہم نے فلاں قوم کی ہلاکت کا ارادہ کیا مگر جب انہوں نے توبہ کی تو پھر عذاب ہلاکت ٹل گیا توریت میں بھی ذکر ہے کہ موسیٰ ؑکی دعا سے بار بار عذاب ٹلتا رہا وعید میں تخلف جائز ہے۔اہل کتاب کا کوئی ایسا فرقہ نہیں جو اسے نہ مانتا ہو۔ہندو بھی مانتے ہیں کہ صدقہ سے بلا ٹل جاتی ہے جب ٹل گئے تو پیشگوئی بدل گئے قرآن مجید میں بھی ہے یصبکم بعض الذی یعدکم (المومن : ۲۹) یعنی عذابی پیشگوئیوں کا بعض حصہ تو پورا ہو گا اور بعض بوجہ توبہ استغفار ٹل جائے گا۔ نبی سے اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے منہاج نبوت کو دیکھا جائے تو صریح نظر آتا ہے کہ انبیاء سے اجتہادوں میں غلطیاں ہوئی ہیں جیسے عیسیٰ ؑنے کہا کہ تم ابھی نہیں مرو گے کہ میں واپس آجائوں گا تو یہ ان کا جتہاد تھا مگر خدا تعالیٰ کے نزدیک ان کے آنے سے یہ مراد نہ تھی بلکہ دوسرے کا آنا مراد تھا اور ممکن ہے کہ الیاس کا بھی یہ خیال ہو کہ میں ہی واپس آئوں گا اسی طرح پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کا سفر کیا تو حصرت عمرؓ کو ابتلا آیا خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جتہاد اس طرف دلالت کرتا تھا کہ ہم فتح کر لیویں گے مگر وہ اجتہاد صحیح نہ نکلا اسی طرح ایک دفعہ آپؐ نے فرمایا کہ میں نے سمجھا تھا کہ ہجرت یمامہ کی طرف ہوگی مگر یہ بات درست نہ نکلی کیونکہ یہ آپ کا اپنا اجتہاد تھا کیونکہ خدا تعالیٰ پر لازم نہ تھا کہ ہر ایک باریک امر آپ کو بتلادے پس بحث مباحثہ میں اول مخالف سے منہاج نبوت کو قبول کروا کر اس پر دستخط کروالینے چاہئیں۔ پھر آتھم والی پیشگوئی کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:-