سنائی جائے چنانچہ عبداﷲ کشمیری صاحب سنانے لگے سب سے اول حصرت اقدس کو اس پر کمال افسوس ہوا کہ فریقین نے صرف بیس بیس منٹ اپنے اپنے دعاوی کے متعلق دلائل لکھنے کے لئے قبول کئے حضرت اقدس نے فرمایا کہ ایسی صورت میں ہرگز مباحثہ قبول نہیں کرنا چائے تھا یہ تو ایک قسم کا خون کرنا ہے جب ہم مدعی ہیں تو ہمیں اپنے دعاوی کے دلائل کے واسطے تفصیل کی ضرورت ہے جو کہ وقت چاہتی ہے اور جب دلائل لکھے جاتے ہیں تو توجہ ہوتی ہے اس میں فیضان الٰہی ہوتا ہے اس کا ہم کیا وقت مقرر کر سکتے ہیں کہ کب تک ہو۔ غرضیکہ حصرت اقدس نے اس بات کو بالکل نا پسند فرمایا کہ وقت میں کیوں تنگی اختیار کی گیے پھر عبدال صاحب کشمیری نے وہ تمام تحریریں پڑھ کر سنائیں روئیدار سننے کے بعد حصرت اقدس پھر انہیں امرو کا بار بار اعادہ فرماتے رہے جو کہ سیر میں مناظرہ اور مباحثہ کے متعلق فرمائے تھے تا کہ سامعین کے ذہن نشین وہ باتیں ہو جائیں۔؎ٰ ۲؍نومبر ۱۹۰۲ء؁ بروز یکشنبہ (بوقت سیر) مُدّ کے حالاتِ مباحثہ پر تبصرہ حضرت اقدس حسب معمول سیر کے لئے تشریف لائے اور آتے ہی پھر اس مناظرہ کے متعلق حضور نے گفتگو شروع فرمائی جس کی کارروائی گذشتہ شب درج ہو چکی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ :- آج کل ان مولویوں کا دستور ہے کہ چالیس‘ بچاس جھوٹ ایک دفعہ ہی بیان کر دیتے ہیں اب ان کا فیصلہ تین چار منٹ میں دوسرا فریق کس طرح کرے پادریوں کا بھی یہی طریق ہے۔کہ ایک دم اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں ایسے وقت میں یہ طریق اختیار کرنا چاہئے کہ ایک اعتراض چن لیویں اور اول اس پر فیصلہ کر کے پھر آگے چلیں اور دوسرا اعتراض لے لیں۔اول قواعد مقرر کئے جائیں یہ امر بھی دیکھا جائے کہ منہاج نبوت کو (دوسرا فریق) مانتا ہے یا نہیں۔ اس نے (مولوی ثناء اﷲ) بار بار عبداﷲ آتھم کی پیشگوئی کا تکرار کیا کہ وہ پوری نہ ہوئی۔اگر منہاج نبوت کا فیصلہ اولاً کر لیا جاتا تو اس طرح کا دھوکا وہ کب دے سکتا تھا۔