رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منافق کو کُرتہ دیا اور اس کے جنازہ کی نماز پڑھی ممکن ہے اس نے غرغرہ کے وقت توبہ کر لی ہو مومن کا کام ہے کہ حسن ظن رکھے اسی لئے نماز جنازہ کا جواز رکھا ہے کہ ہر ایک کی پڑھ لی جائے ہاں اگر کوئی سخت معاند ہو یا فساد کا اندیشہ ہو تو پھر نہ پڑھنی چاہئے ہماری جماعت کے سر پر فرضیت نہیں ہے بطور احسان کے ہامری جماعت دوسرے غیر ازجماعت کا جنازہ پڑھ سکتی ہے وصل علیھم ان صلوتک سکن لھم (التوبۃ : ۱۰۴) اس میں صلوٰۃ سے مراد جنازہ کی ناز ہے اور سکن لھم دلالت کرتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا گنہگار کو سکینت اور ٹھنڈک بخشتی ہے۔ فلما توفیتنی سے دو فائدے فلما توفیتنی (المائدہ : ۱۱۸) سے دو فائدے ہماری جماعت کو اٹھانے چاہئیں ایک تو یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس میں کہتے ہیں کہ میری وفات کے بعد میری امت بگڑی ہے جس کی مجھ کو خبر نہیں ہے پس اگر عیسیٰ ؑ ابھی تک فوت نہیں ہوئے تو پھر یہ بیھ مان لینا چاہیے کہ ابھی تک عیسائی صراط مستقیم پر ہیں اور بلحاظ دین کے ان میں کوئی فساد نہیں۔دوسری بات یہ کہ اگر اس آیت کا اطلاق ان پر ان کے دوبارہ آنے کے بعد ہے تو اس صورت میں مسیح ؑ (نعوذ باﷲ) بہت کذاب ٹھہرتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ وہ دوبارہ دنیا میں آکر چالیس سال رہے اور اپنی قوم کی بد اعتقادی کی حالت دیکھ کر انہوں نے اس کی اصلاح کی اور صلیب کو توڑا اور خنزیروں کو قتل کیا اور پھر باوجود کامل علم کے خدا تعالیٰ کے سامنے جھوٹ بولتے ہیں کہ مجھ کو خبر نہیں ہے۔ مباحثہ مُدّ کی روئیداد عصر کی نامز سے پیشتر حضرت اقدس نے مجلس فرمائی سید سرور شاہ صاحب اور عبدال صاحب کشمیری جو کہ موضع مد میں تبلیغ کے لئے تشریف لے گئے تھے بخیرو عافیت واپس آئے اور حضرت اقدس سے نیاز حاصل کیا اور وہاں کے جلسہ مباحثہ کی تفصیل سنانے لگے حضرت اقدس نے اختصار ان تمام باتوں کا اعادہ فرمایا جو کہ آپ نے سیر میں فرمائی تھیں کہ مباحثہ میں ہماری جماعت کو کیا پہلو اختیار کرنا چاہئے اور پھر تمام کیفیت مباحثہ سننے کے لئے شام کا وقت مقرر ہوا۔نماز مغرب کے بعد حضرت اقدس نے جلوس فرماتے ہی حکم صادر فرمایا کہ مباحثہ موضع مد کی کاروائی