اس کے بعد وہ رفتہ رفتہ اچھے ہو گئے اور پھر طوس گئے وہاں بیمار ہو کر مرے اور وہیں دفن ہوئے اس لئے مومن بننا چاہئے مومن ہو تو خدا رسوائی کی موت نہیں دیتا اور دل کے خیالات پر مواخذہ نہیں ہوتا جب تک کہ انسان عزم نہ کر لے ایک چور اگر بازار میں جاتا ہوا ایک صراف کی دوکان پر روپوں کا ڈھیر دیکھے اور اسے خیال آئے کاش کہ یرے پاس بھی اس قدر روپیہ ہو اور پھر اسے چرانے کا ارادہ کرے مگر قلب اسے لعنت کرے اور وہ باز رہے تو وہ گنہگار نہ ہوگا اور اگر پختہ ارادہ کرلے کہ اگر موقع ملا تو ضرور چرالوں گا تو گنہگار ہو گا ئدم ؑ کے قصہ میں بھی خدا تعالیٰ فرماتا ہے ولم نج لہ عزما (طہ : ۱۱۶) یعنی ہم نے اس کی عزیمت نہیں پائی عصی ادم (طہ : ۱۲۲) کے معنی ہیں کہ صورت عصیان کی ہے مثلا آقا ایک غلام کو کہے کہ فلاں رستے جا کر فلاں کام کر آئو وہ اگر اجتہاد کرے اور دوسرے راہ سے جاوے تو عصیان تو ضرور ہے مگر وہ نافرمان نہ ہوگا صرف اجتہادی غلطی ہوگی جس پر مواخذہ نہیں۔ خرگوش حلال ہے پھر کسی نے خرگوش کے حلال ہونے پر حضرت اقدس سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ اصل اشیاء میں حلت ہے حرمت جب تک نص قطعی سے ثابت نہ ہو تب تک نہیں ہوتی۔ حدیث کا مقام حدیث کے متعلق ہمارا مذہب ہے کہ ادنیٰ سے ادنیٰ بھی ہو تو اس پر عمل کر لیا جائے جب تک وہ مخالف قرآن نہ ہو۔ پھر سنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ امام اعظم علیہ الرحمۃ نے رفع یدین پر کیوں عمل نہ کیا۔کیا اس وقت حدیث کے راوی نہ تھے راوی تو تھے مگر چونکہ یہ سنت اس وقت ان کو نظر نہ آئی اس لئے انہوں نے عمل نہیں کیا۔مولویوں کی بد قسمتی ہے کہ یہودونصاریٰ محرف ومبدل توریت کو لئے پھرتے ہیں اور یہ بجائے قرآن کے حدیثوں کو لئے پھرتے ہیں۔ غیرازجماعت کی نماز جنازہ نماز جنازہ کا ذکر ہونے پر آپ نے فرمایا کہ