نزولِ مسیحؑ ہمارے ہاتھ میں تو ایک نظیر ہے اگر یہ پوچھیں کہ جو تاویل (نزول مسیح کی) تم پیش کرتے ہو کسی نے آگے بھی کی ہے تو ہم جواب دیتے ہیں کہ جس کے بارے میں تم کو مصیبت پڑی ہے (یعنی مسیحؑ کے) اس نے خود یہ تاویل کی ہے اس کو بھی اس وقت مصیبت پڑی تھی تو ہماری جماعت میں داخل ہو کر آخر اس کی رہائی ہوئی۔نظیر بھی کوئی شئے ہوتی ہے خدا تعالیٰ بھی اپنی سنت بطور نظیر ۲؎ کے پیش کیا کرتا ہے اگر انحصرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ آجاتے تو کوئی حرج نہ تھا آپؐ نے کوئی خدائی کا دعویٰ تو نہیں کیا نہ آپؐ خدا بنائے گئے مگر خدا نے مسیح کے منہ سے نکلوا کر اقرار کروالیا کہ دوبارہ آنے کے یہ معنے ہوتے ہیں کوئی بادشاہ وہ طریق اختیار نہیں کرتا جس سے اس کی بادشاہی میں خلل آوے پھر خدا کیوں ایسا طریق اختیار کرے جس سے اس کی خدائی میں بٹہ لگے۔ مومن کو اﷲ رسوائی کی موت نہیں دیتا پھر مولوی فتح دین صاحب نے کہا کہ ہم لوگ بڑے خطاکار ہیں کئی فاسد خیال آتے رہتے ہیں اور طاعون کا زور ہو رہا ہے حضرت اقدس نے فرمایا کہ میں یقینا جانتا ہوں کہ جس کو دل سے خدا تعالیٰ سے تعلق ہے اسے وہ رسوائی کی موت نہیں دیتا۔ایک بزرگ کا قصہ کتب میں لکھا یہ کہ ان کی بڑی دعا تھی کہ وہ طوس کے مقام میں فوت ہوں ایک کشف میں انہوں نے دیکھا کہ میں طوس میں ہی مروں گا پھر وہ کسی دوسرے مقام میں سخت بیمار ہوئے اور زندگی کی کوئی امید نہ رہی تو اپنے شاگردوں کو وصیت کی کہ اگر میں مر گیا تو مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کرنا۔انہوں نے وجہ پوچھی تو بتلایا کہ میری بڑی دعا تھی کہ میںطوس میں مروں مگر اب پتہ لگتا ہے کہ وہ قبول نہیں ہوئی اس لئے میں مسلمانوں کو دھوکا نہیں دینا چاہتا